خیبرپختونخوا قرض اتارنے والا پہلا صوبہ بن گیا، مشیر خزانہ کے پی

خیبرپختونخوا قرض اتارنے والا پہلا صوبہ بن گیا، مشیر خزانہ کے پی

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا، مزمل اسلم نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے قرض اتارنے کے لیے اپنے فنڈز میں 30 ارب روپے منتقل کر دیے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبے اور وفاقی حکومت صرف قرض لیتے ہیں لیکن ان کے پاس قرض اتارنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے قرض اتارنے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس میں مزید 30 سے 35 ارب روپے منتقل کیے جا سکتے ہیں۔مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت کو قرض اتارنے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو ملکی قرض کو کم کر کے ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے چھ مہینوں میں خیبرپختونخوا حکومت نے 20 ارب روپے پینشن اور 20 ارب روپے گریجویٹی فنڈ میں منتقل کیے ہیں، جس سے تین سے چار ارب روپے کا منافع بھی حاصل ہوا۔

 اس کے علاوہ، حکومت نے خزانے میں تین ماہ کی ایڈوانس تنخواہ بھی رکھی ہے۔مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی قرضہ پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وفاقی حکومت نے صرف نومبر کے مہینے میں 12,248 ارب روپے کا قرض لیا، جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی قرض 725 ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مقصد عمران خان کی ویژن کے مطابق قرض ختم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔