خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 37 دہشت گرد مارے گئے

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 37 دہشت گرد مارے گئے

پشاور: خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 37 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 کارروائیاں کوہاٹ، ہنگو، تھل اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دہشتگرد حملوں کے تناظر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز میں دہشتگرد تنظیموں سے وابستہ افراد اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو اضلاع میں دہشتگردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ گراؤنڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان مؤثر انگیجمنٹ ہوئی، جس کے نتیجے میں فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 دہشتگرد ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں بھی قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فتنۃ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دہشتگردوں کے 3 اہم اہداف تباہ کیے گئے، جن میں خودکش حملہ آوروں کی تربیت کا ایک مرکز بھی شامل تھا۔ کارروائی کے دوران متعدد خودکش بمباروں سمیت 28 دہشتگردوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے مراکز اور ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران اہداف کا تعین انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کررہا ہے، تاہم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کے مراکز کی موجودگی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں دہشتگردوں کے مراکز کو ہی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اور شہریوں یا غیر متعلقہ افراد کو نقصان سے بچانے کے لیے ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت انسدادِ دہشتگردی کی مہم ’غضب لِلحق‘ جاری رہے گی۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ملک میں دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنا اور دہشتگرد نیٹ ورکس و ان کے انفراسٹرکچر کا خاتمہ کرنا ہے۔