امریکا اور نیپال میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی شہریوں کی گرفتاریوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
امریکی ریاست پنسلوانیا میں ایک بھارتی شہری کو مبینہ وائر فراڈ کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جبکہ نیپال میں بھی سرحدی نقل و حرکت اور مشکوک سرگرمیوں کے تناظر میں ایک بھارتی شہری کو بھاری رقم سمیت حراست میں لیا گیا۔امریکی جریدے فریٹ ویوز کے مطابق سمرن پال سنگھ کو 4 ستمبر کو پنسلوانیا کے شہر نیوبری میں کمرشل گاڑیوں کی تلاشی کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران سمرن پال سنگھ نے نیویارک سے جاری کردہ کمرشل ڈرائیونگ لائسنس پیش کیا۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تحقیقات کے دوران سمرن پال سنگھ کے غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود ہونے کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس کے خلاف پنسلوانیا کی وفاقی عدالت سے وائر فراڈ اور وائر فراڈ کی سازش کے الزامات میں پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری تھا۔رپورٹ کے مطابق سمرن پال سنگھ جون 2022 میں ایریزونا کے راستے امریکا میں داخل ہوا تھا، جہاں اسے امریکی بارڈر پٹرول نے حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں اسے رہا کردیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد اسے امریکی امیگریشن حکام کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور مجرمانہ مقدمے کے سلسلے میں اسے یو ایس مارشل سروس کے حوالے کیا جانا ہے۔دوسری جانب نیپال کے جریدے راٹوپتی کے مطابق ضلع دھنوشا میں پولیس نے ایک بھارتی شہری کو موٹر سائیکل کی تلاشی کے دوران تقریباً 13 لاکھ 60 ہزار نیپالی روپے کی مشکوک رقم برآمد ہونے پر گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی مشکوک سرگرمیوں اور سرحدی نقل و حرکت سے متعلق خدشات کے پیش نظر کی گئی۔نیپالی حکام کے مطابق پولیس نے موٹر سائیکل کو روک کر تلاشی لی، جس دوران بڑی مقدار میں مقامی کرنسی برآمد ہوئی۔ بھارتی شہری کو رقم کے ذرائع اور اس کی نقل و حرکت سے متعلق تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
دونوں ممالک میں ہونے والی یہ کارروائیاں الگ الگ واقعات سے متعلق ہیں اور دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر ان کے درمیان کسی مربوط جرائم پیشہ نیٹ ورک کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم دونوں واقعات نے غیر قانونی امیگریشن، مبینہ مالی جرائم اور سرحد پار مشکوک نقل و حرکت کی نگرانی کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو نمایاں کیا ہے۔