بھارت میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مبینہ ریاستی سرپرستی، گوا منشیات کا گڑھ قرار

بھارت میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مبینہ ریاستی سرپرستی، گوا منشیات کا گڑھ قرار

بھارت میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ اور منشیات کے مسئلے پر مودی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، گوا میں منشیات کے کاروبار اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے سیاسی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر سرگرم بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا معاملہ بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

بھارتی جریدے دی ہانس انڈیا کے مطابق، تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی سرپرستی کے باعث گوا میں منشیات کے مسئلے نے سنگین صورت اختیار کی ہے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔دوسری جانب بھارتی جریدے دکن کرانیکل کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پالیسیوں کے باعث گوا میں حکومت کے خلاف عوامی بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ منشیات کے کاروبار اور اس سے متعلق حکومتی اقدامات پر تنقید نے ریاست میں سیاسی بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا معاملہ
رپورٹ میں امریکی محکمۂ انصاف کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر سرگرم بعض بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے معاملات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے واقعات نے بین الاقوامی سطح پر جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون نافذ کرنے، شفاف تحقیقات اور احتساب کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔تاہم، کسی حکومت یا سیاسی رہنما کی براہِ راست سرپرستی کے دعوے کی تصدیق کے لیے متعلقہ شواہد اور سرکاری تحقیقات کا جائزہ ضروری ہے۔ مذکورہ الزامات کے حوالے سے مودی حکومت یا متعلقہ حکام کا مؤقف اس فراہم کردہ متن میں شامل نہیں ہے۔