جرمنی کی ریاست باویریا کے وزیرِاعلیٰ مارکس سوڈر نے غیرقانونی طور پر مقیم اور جرائم میں ملوث افغان باشندوں کی ملک بدری کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی میں جرائم کرنے والے اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
مارکس سوڈر کے مطابق جرمنی میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد اور جرائم میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی اور قانون کے مطابق ان کی ملک بدری یقینی بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افراد کو افغانستان، شام یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک واپس بھیجنے کے معاملے میں حکومت اپنی پالیسی پر سختی سے عمل کرے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جرمنی کی سلامتی اور قانون کی بالادستی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، اس لیے ایسے افراد کے خلاف کارروائی میں نرمی نہیں برتی جانی چاہیے جو جرائم میں ملوث ہوں یا ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہوں۔رپورٹس کے مطابق جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یورپی ممالک اب تک تقریباً 22 ہزار افغان پناہ گزینوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔ تاہم، ان احکامات اور عملی طور پر ملک بدر کیے جانے والے افراد کی تعداد میں فرق ہو سکتا ہے۔
جرمنی میں پناہ گزینوں اور غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں سے متعلق پالیسی پر بحث کے دوران عوامی تحفظ، جرائم کی روک تھام اور امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔دوسری جانب ملک بدری کے معاملات میں متعلقہ قوانین، انفرادی مقدمات اور واپس بھیجے جانے والے ملک کی صورت حال بھی اہمیت رکھتی ہے۔ افغانستان اور شام جیسے ممالک میں سکیورٹی اور انسانی حقوق کی صورت حال کے باعث بعض ملک بدریوں کو قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔