بولیویا میں ڈیزل پر سرکاری سبسڈی ختم، قیمتیں عالمی مارکیٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

بولیویا میں ڈیزل پر سرکاری سبسڈی ختم، قیمتیں عالمی مارکیٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

بولیویا کی حکومت نے ملک میں جاری ایندھن کی قلت پر قابو پانے اور سرکاری خزانے پر بڑھتے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ڈیزل پر دی جانے والی سرکاری سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

 نئی پالیسی کے تحت ڈیزل کی قیمتیں بیرونِ ملک سے درآمد کی لاگت اور عالمی مارکیٹ کے نرخوں سے منسلک ہوں گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بولیویا کے صدر روڈریگو پاز نے جمعہ کو نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ڈیزل کی قیمت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سبسڈی کے بجائے اس لاگت کے مطابق طے کی جائے گی جو ملک کو بیرونِ ملک سے ایندھن خریدنے کے لیے ادا کرنا پڑتی ہے۔بولیویا اپنی ڈیزل کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اتار چڑھاؤ براہِ راست ملکی ایندھن مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔صدر روڈریگو پاز کے مطابق حکومت ہر ہفتے تقریباً 55 ملین ڈالر ڈیزل کی سبسڈی پر خرچ کر رہی تھی۔ ان کے مطابق ایندھن کی اسمگلنگ اور سبسڈی والے ڈیزل کو بلیک مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرنا بھی حکومتی مالی خسارے میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔صدر نے واضح کیا کہ نئی پالیسی کے بعد ڈیزل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے حالات کے مطابق بڑھ یا کم ہوسکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب ڈیزل کی وہی قیمت مقرر کرے گی جو درآمد کے وقت بیرونِ ملک سے ایندھن خریدنے پر ادا کی جاتی ہے۔یہ فیصلہ اگست میں متعارف کرائے گئے دوہری قیمتوں کے نظام کی جگہ لے گا۔ اس نظام کے تحت زیادہ مقدار میں ڈیزل استعمال کرنے والے صارفین سے 18 بولیوینوس فی لیٹر وصول کیے جارہے تھے، جبکہ دیگر صارفین کو 9.80 بولیوینوس فی لیٹر کی سبسڈی شدہ قیمت پر ڈیزل فراہم کیا جارہا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سبسڈی ختم کرنے کے باوجود عام شہریوں اور اہم معاشی شعبوں پر اضافی مالی دباؤ کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ ان اقدامات میں مستحق افراد کے لیے براہِ راست نقد امداد اور کاروباری و معاشی سرگرمیوں کے لیے ترجیحی قرضوں کی سہولت شامل ہے۔بولیوین حکومت کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں جاری ایندھن کی قلت پر قابو پانا، سرکاری خزانے پر سبسڈی کا بوجھ کم کرنا اور ڈیزل کی اسمگلنگ و بلیک مارکیٹ کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔تاہم ڈیزل کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے منسلک کرنے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بولیویا میں بھی ایندھن مہنگا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور دیگر ڈیزل پر انحصار کرنے والے معاشی شعبوں کی لاگت متاثر ہونے کا امکان ہے۔