ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گھریلو صارفین اور رکشہ ڈرائیورز شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں، جبکہ اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
نئی قیمتوں کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری فی کلو قیمت 254 روپے 32 پیسے جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 92 روپے مقرر کی گئی ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی بندش اور کم پریشر کے باعث وہ مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔شہریوں کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی 390 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔رکشہ ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مہنگی ہونے سے روزانہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے باعث گھر کا خرچ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔شہریوں نے دکانداروں کی من مانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔