برازیلیا: برازیل کی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کے اقدامات کی مدت مزید ایک ماہ بڑھا دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئے صدارتی فرمان کے تحت پیٹرول پر عائد وفاقی ٹیکسوں میں کمی برقرار رکھی جائے گی، جبکہ ڈیزل کے درآمد کنندگان کے لیے اضافی سبسڈی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔نئے فیصلے کے مطابق پیٹرول پر پی آئی ایس/کوفنز ٹیکسوں میں فی لیٹر 0.89 برازیلین ریئس، یعنی تقریباً 0.18 امریکی ڈالر کی کمی کی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں گیسولین پر وفاقی ٹیکس عملاً صفر کی سطح پر رہیں گے۔ حکومت کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنا اور عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔یہ اعلان صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی جانب سے ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ اسی ماہ ہونے والی ہے۔ تاہم وزیرِ خزانہ داریو دوریگان نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ایندھن پر ریلیف کے اقدامات کا تعلق انتخابی مہم سے ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔حکومت نے ایتھنول پر عائد پی آئی ایس/پاسپ اور کوفنز ٹیکسوں میں فی لیٹر 0.19 ریئس کی کمی کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے۔ گزشتہ ریلیف اقدامات کی مدت جمعہ کو ختم ہوگئی تھی، تاہم نئے پیکیج پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ڈیزل کے شعبے میں بھی حکومت نے اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ سڑکوں پر استعمال ہونے والے ڈیزل کے درآمد کنندگان کو 30 دن کے لیے فی لیٹر مزید 1.40 ریئس کی سبسڈی دی جائے گی۔ یہ امداد پہلے سے فراہم کی جانے والی فی لیٹر 2.12 ریئس کی سبسڈی کے علاوہ ہوگی، جس سے درآمد کنندگان کو اضافی مالی معاونت حاصل ہوگی۔
برازیلین حکومت کے اندازے کے مطابق پیٹرول اور ایتھنول سے متعلق اقدامات پر 2026 کے دوران 3.6 ارب ریئس خرچ ہوں گے، جبکہ درآمد شدہ ڈیزل کے لیے اضافی سبسڈی پر 30 دن میں مزید 1.6 ارب ریئس لاگت آنے کی توقع ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرنا اور مقامی صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ تاہم ان اقدامات کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی، اس کا انحصار مارکیٹ کی صورتحال اور قیمتوں کی منتقلی پر ہوگا۔