گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سبب صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوتی ہے، اور انہوں نے اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے افغانستان کے ساتھ ایک ایکسپو کا انعقاد ہوگا۔فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ گندم اور آٹے کی ترسیل کی اجازت 5 لاکھ روپے دینے کے بعد بھی کیوں بند کی جاتی ہے، اور انہوں نے وزیراعلیٰ کو بااختیار بنانے اور فیصلے خود کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے پولیس گاڑیوں کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر گاڑیاں ٹھیک تھیں تو انہیں رکھنا چاہیے تھا، اور انہوں نے رپورٹ طلب کی ہے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔گورنر نے افغانستان سے دہشت گردی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کھولنے اور کاروبار کے امکانات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مزید برآں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر پولیس کو گاڑیاں دے رہا ہے، تو انہیں لینا چاہیے، اور وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ مختصر کابینہ بنائیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دوستوں سے ملاقات کے دوران مثبت رسپانس دیا اور کہا کہ صوبے کی ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال ہے، پاکستان میں سب سے سستی بجلی پیدا کر رہا ہے، مگر پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ زیادہ ہے، اور صوبہ وسائل کے باوجود پیچھے ہے۔