صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل منشاء اللہ بٹ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس سوشل سکیورٹی ہیڈ آفس میں منعقد ہوا، جس میں مریم نواز راشن کارڈ اسکیم کے تحت راشن کی تقسیم کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس اجلاس میں رجسٹرڈ ورکروں اور ستھرا پنجاب ورکرز کے لیے راشن کارڈز کی تقسیم میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لیبر نعیم غوث، کمشنر سوشل سکیورٹی محمد علی، وائس کمشنر پیسی توقیر الیاس چیمہ، اور بینک آف پنجاب اور پی آئی ٹی بی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔شرکاء نے صوبائی وزیر کو راشن کارڈز کی تقسیم کی موجودہ رفتار اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔منشاء اللہ بٹ نے ہدایت کی کہ راشن کارڈز کی تقسیم کے عمل میں واضح تیزی لائی جائے اور خاص طور پر یہ کہ اگلے ایک ماہ میں ترسیل میں نمایاں بہتری دیکھی جائے۔ انہوں نے بینک آف پنجاب کو کارڈز کی پرنٹنگ کا عمل فوری تیز کرنے کی ہدایت دی تاکہ کسی بھی تاخیر سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں لاہور کے 10 ہزار غریب خاندانوں کے لیے شروع کیے گئے پائلٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی، جسے راشن کارڈ اسکیم کے عملی نفاذ کی ابتدائی آزمائش کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے صوبہ بھر میں وسعت دینے کا ارادہ ہے۔یاد رہے کہ مریم نواز کے اس پروگرام کے تحت مستحق مزدور ہر ماہ 3 ہزار روپے تک راشن حاصل کر سکیں گے، اور آنے والے سالوں میں اس رقم کو مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا عزم ہے کہ محنت کش طبقے کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔