مریم نواز کی زیر قیادت مزدوروں کیلئے "سوشل سکیورٹی راشن کارڈ سکیم" تیار

مریم نواز کی زیر قیادت مزدوروں کیلئے

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مزدور طبقے کیلئے سوشل سکیورٹی راشن کارڈ سکیم کو عملی شکل دینے کے حتمی مراحل شروع ہوگئے ہیں۔

 اس حوالے سے پنجاب حکومت اور بینک آف پنجاب کے درمیان ڈرافٹ معاہدہ تیار کرلیا گیا ہے۔

سبسڈی اور استعمال کی شرائط
اس سکیم کے تحت رجسٹرڈ مزدوروں کو ماہانہ 3 ہزار روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی جو صرف اشیائے ضروریہ کی خریداری پر استعمال ہوسکے گی۔راشن کارڈ سے کیش نکالنے پر پابندی ہوگی۔سبسڈی صرف مقررہ دکانداروں اور ماڈل بازاروں میں خرچ کی جا سکے گی۔کارڈ بالکل مفت جاری ہوگا، تاہم ضائع ہونے کی صورت میں 810 روپے ری پلیسمنٹ فیس دینا ہوگی۔
سال کے آخر میں جو فنڈز استعمال نہ ہوں وہ خودکار طریقے سے خزانے میں واپس چلے جائیں گے۔
شفافیت کیلئے اقدامات
سکیم کی شفافیت یقینی بنانے کیلئے:سہ ماہی بنیادوں پر ریکانسیلی ایشن اور رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔مالیاتی امور کی نگرانی کیلئے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی لازمی ہوگا۔مزدوروں کی تنخواہوں کی منتقلی کی تجویزحکومت نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ مزدوروں کی تنخواہیں انہی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں تاکہ راشن کارڈ اور تنخواہوں کے نظام کو یکجا کیا جاسکے۔

صوبائی کابینہ کی منظوری
یہ سکیم صوبائی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد مکمل طور پر نافذ کی جائے گی۔

مستفید ہونے والے ورکرز
ابتدائی تخمینے کے مطابق اس سکیم سے 12 لاکھ رجسٹرڈ مزدور اور ان کے خاندان براہِ راست فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومت اس پروگرام پر تقریباً 40 ارب روپے خرچ کرے گی۔