بالی ووڈ کے ہدایتکار اور پروڈیوسر کرن جوہر نے اپنی حالیہ گفتگو میں صنفی روایات اور مردانگی کے تصور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ غلط تصور ہے کہ لڑکے نہ روئیں، گلابی رنگ نہ پہنیں یا نرم طبیعت نہ رکھیں۔کرن جوہر نے انٹرویو میں بتایا کہ ان کی شخصیت آج بھی ان کے بچپن کی یادوں سے متاثر ہے، جن میں جذباتی چیلنجز اور صنفی کرداروں سے متعلق مسائل شامل تھے۔ انہوں نے اپنی والدین سے ملنے والی تربیت اور اپنی ذات میں موجود بے چینی کا ذکر کیا، جس کا اثر ان کی زندگی اور بچوں کی تربیت پر بھی پڑا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں یاش اور روہی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جلد پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے وہی تکلیف برداشت کریں جو انہوں نے اپنے بچپن میں کی۔ وزن بڑھنے اور غیر صحت مند غذا کے حوالے سے بھی وہ فکر مند ہوتے ہیں، یہاں تک کہ بچوں کو چینی کھاتے دیکھ کر بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔
کرن جوہر نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کے حوالے سے بتایا کہ وہ بچپن سے موٹاپے کا شکار رہے ہیں اور اس وجہ سے مزاح اور طعنوں کا سامنا بھی کیا ہے۔ اس کی وجہ سے جسمانی کمی بیشی سے ان میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو قبول کرنے اور اپنے آپ سے مطمئن ہونے کے سفر پر ہیں، اور آہستہ آہستہ اپنے اندر کے احساسات اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاشرہ بھی روایتی صنفی کرداروں سے باہر نکل کر سب کو مساوی اور آزاد محسوس کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔