شہر میں روٹی کی قیمتوں میں اضافہ، شہریوں کی زندگی مشکل بن گئی

شہر میں روٹی کی قیمتوں میں اضافہ، شہریوں کی زندگی مشکل بن گئی

شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا بڑھ گیا ہے کیونکہ آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر روٹی کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

 مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اب شہر کے مختلف مقامات پر روٹی کی قیمت 17 سے 20 روپے کے درمیان فروخت ہو رہی ہے، جو چند ہفتے قبل سے کافی زیادہ ہے۔ذرائع کے مطابق، آٹے کی فی من قیمت میں تقریباً 800 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے سبب تندور مالکان نے بھی اپنی روٹی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی خام مال کی قیمتوں کا بوجھ برداشت کیا جا سکے۔ اس اضافے کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ کی بنیادی ضرورت کی اشیاء خریدنے میں مزید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ، "ہماری گھریلو بجٹ مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے، اور روزانہ کی اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں، جس سے ہماری زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے۔

" انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں لایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور روٹی جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، ملکی درآمدات، اور مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ شہریوں کو اس مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔