ملک میں مہنگائی کا دباؤ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی مزید متاثر ہونے لگی ہے۔
دالوں، گوشت، دودھ اور روٹی سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام صارفین کے لیے گھریلو بجٹ چلانا مشکل بنا دیا ہے۔مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری نرخ نامے موجود ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریٹ لسٹ صرف کاغذی حد تک محدود ہیں جبکہ عملی طور پر دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔روٹی کے معاملے میں صورتحال خاص طور پر نمایاں ہے، جہاں سرکاری طور پر روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر ہونے کے باوجود متعدد علاقوں میں نان بائی اور تندور مالکان اسے 20 روپے تک فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق انتظامی نگرانی کمزور ہونے کے باعث اوورچارجنگ کا سلسلہ جاری ہے۔آٹے کی قیمتوں میں بھی مختلف علاقوں میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے، جس نے صارفین میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں واضح اور یکساں سرکاری نرخ میسر نہیں آ رہے، جس سے مارکیٹ میں کنفیوژن بڑھ رہی ہے۔
اسی طرح گوشت کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخ کے مطابق مٹن کی قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مختلف مارکیٹوں میں یہ 3500 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جس نے گوشت کو عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور کر دیا ہے۔دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں سرکاری نرخ 170 روپے فی لیٹر کے باوجود کئی علاقوں میں دودھ 240 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے گھریلو اخراجات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد نہ کیا گیا تو مہنگائی کا یہ دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔