نان اور روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکپتن میں شہریوں کے ساتھ ساتھ تندور مالکان اور دکانداروں کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
مہنگائی کے باعث جہاں عوام کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے، وہیں نان اور روٹی تیار کرنے والے دکاندار بھی کاروبار متاثر ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ میدہ اور آٹا مہنگے داموں خریدنے کے باعث نان اور روٹی کی تیاری پر آنے والی لاگت بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں مہنگا خام مال خرید کر نان اور روٹی کم قیمت پر فروخت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا، جبکہ قیمتوں میں اضافے کے باعث گاہکوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔تندور مالکان کے مطابق آٹے اور میدے کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار جاری رکھنے کے لیے اخراجات پورے کرنا ضروری ہے، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث دکانداروں اور صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب نان اور روٹی روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ بالخصوص محدود آمدنی والے افراد کے لیے بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میدے اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خام مال مناسب نرخوں پر دستیاب ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹے اور میدے کی قیمتوں میں استحکام آنے سے نان اور روٹی کی تیاری کے اخراجات کم کرنے اور صارفین کو ریلیف دینے میں مدد مل سکتی ہے۔