لاہور میں مہنگائی کا سلسلہ برقرار ہے اور آٹا، گھی، کوکنگ آئل، دالیں، چاول، سبزیاں، پھل، دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ شہریوں کو مہنگے داموں خریدنا پڑ رہی ہیں۔
سرکاری نرخوں اور مارکیٹ قیمتوں میں نمایاں فرق کے باعث شہریوں کے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہے ہیں۔مارکیٹ میں درجہ اول کا کوکنگ آئل اور گھی 615 روپے فی لیٹر تک فروخت ہونے کی شکایات ہیں، جبکہ چاول کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث محدود آمدن میں گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔روٹی کی قیمت میں بھی سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری نرخ نامے کے مطابق روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں بعض مقامات پر یہی روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے سرکاری نرخ نامے میں 18 ستمبر کو روٹی کا ریٹ 14 روپے درج تھا۔دودھ بھی سرکاری نرخ 170 روپے فی لیٹر کے بجائے 210 روپے فی لیٹر تک فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ دہی کی قیمت 230 روپے فی کلو تک بتائی جا رہی ہے۔ سرکاری نرخ نامے میں دودھ کی قیمت 170 روپے فی لیٹر درج ہے۔
شہریوں کے مطابق سبزیاں اور ترکاریاں بھی سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق دستیاب نہیں، جبکہ پھل اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں سالانہ بنیاد پر 10.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر بھی 0.49 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات سمیت مختلف عوامل نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈالا۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ ناموں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے، گراں فروشی کی شکایات کا نوٹس لے اور اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر دستیاب کرانے کے لیے مارکیٹوں میں نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنائے۔