تصور حسین شہزاد
حالیہ ایران امریکہ بلواسطہ مذاکراتی عمل میں امریکہ بار بار ایران سے امن کی بھیک بھی مانگ رہا ہے، اور جنگ میں شکست کو بھی تسلیم نہیں کر رہا، امریکہ کا یہ دوہرا معیار ہی مشرق وسطیٰ کا امن داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔ ٹرمپ ایک طرف سے شکست کھا چکا ہے، مگر اس کا اعتراف کرنے سے کترا رہا ہے۔ امریکہ کی پانچ شرائط اور ایران کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز لیکر پاکستان بھر پور کوشش کر رہا ہے کہ معاملہ سلجھ جائے، پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی خصوصی دورے پر تہران ہیں۔ تاکہ امریکیوں کا پیغام پہنچائیں اور ممکنہ طور پر ایران سے کوئی مثبت جواب بھی لے کر ا?ئیں۔امریکی فریق کی طرف سے جو مطالبات پیش کئے گئے ہیں، وہ ایک شکست خوردہ حکومت کیلئے مکمل طور پر مختلف ہیں، یہ واضح ہے کہ امریکہ جنگ میں جو حاصل نہیں کر سکا، وہ مذاکرات کی میز پر حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ سب حاصل نہیں کرسکے گا۔
امریکہ نے ایران کو جواب میں 5 نکات بھیجے ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ تہران انہیں قبول نہیں کرئے گا۔ امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 5 نکات درج ذیل ہیں
1:امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کے ہرجانے اور نقصانات کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
2:ایران سے 400 کلوگرام یورینیم نکال کر امریکہ کو دیا جائے۔
3:ایران کی جوہری تنصیبات میں سے صرف ایک مرکز کو فعال رکھا جائے باقی تمام بند کرنا ہوں گے۔
4:ایران کے بلاک شدہ اثاثے اوپن نہیں کئے جائیں گے حتیٰ کہ 25 فیصد بھی ادا نہیں کیا جائے گا۔
5:جنگ اسی صورت بند ہوگی کہ ایران مذاکرات میں امریکی مطالبات تسلیم کرے گا
یہ مطالبات بتاتے ہیں کہ ایران کی طرف سے ان شرائط کوتسلیم کر لینے کے باوجود امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملوں کا خطرہ بدستور قائم رہے گا۔ امریکہ کے یہ مطالبات مسئلے کو حل کرنے کے بجائے، ان اہداف کے حصول کی کوشش ہے جو یہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکے۔ امریکی مطالبات کے مقابلے میں، ایران نے کسی بھی مطالبے کو اعتماد سازی کی پیشگی شرائط کی تکمیل سے مشروط کیا ہے۔ ایران کی جانب سے بھجوائے گئے مطالبات یہ ہیں۔۔
1:تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ، خاص طور پر لبنان میں
2:ایران کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
3:ایران کے بلاک شدہ اثاثوں کو بحال کیا جائے۔
4:جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
5: آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کے حق کو قبول کیا جائے۔
بہرحال، یہ واضح ہے کہ امریکی دشمن ایران کی استقامت اور سختی سے بے بس ہو چکا ہے، اور دوسری طرف، وہ جنگ شروع کرنے سے بھی
قاصر ہے، اور اگر شروع کرتا بھی ہے تو اس میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور ان اہداف کو حاصل نہیں کر سکتا جو اس نے ابھی تک حاصل نہیں کیے، اس لیے اس نے ایسی تجاویز پیش کی ہیں تاکہ شاید گندے پانی میں مچھلی پکڑ سکے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ کیونکہ ایرانیوں کا دفاع مضبوط ہے اور وہ طویل جنگ لڑنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں، امریکا میں ان کیخلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ خود امریکہ کے سینئر سیاستدان بھی ان کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں امریکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ ایران میں عوام اپنی حکومت کیساتھ کھڑے ہیں۔ رجیم چینج کی امریکی خواہش دم توڑ چکی ہے اور ایران ایک فاتح ملک کے طور دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اب امریکہ کو بس اپنی شکست کا اعتراف کرنا ہے۔