شہزاد راجپوت
خلیج فارس سے لے کر جنوبی ایشیا ء تک پھیلے ہوئے اس خطے میں جہاں بین الاقوامی سیاست کی شطرنج کھیلی جاتی ہے۔ پاکستان ایک ایسی قوت کے طور پر ابھرا ہے جو امریکہ اور ایران جیسی متضاد قوتوں کے مابین پْل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کردار محض اتفاقیہ نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، تاریخی روابط اور سفارتی دانشمندی کا نتیجہ ہے۔پاکستان کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد نے واشنگٹن کے ساتھ دہائیوں پر محیط اتحاد کا تجربہ بھی رکھا ہے۔ یہ دہرا تعلق پاکستان کو ایک منفرد سفارتی پوزیشن فراہم کرتا ہے۔ تہران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط کی گہرائی اور واشنگٹن کے ساتھ سیکورٹی اور معاشی تعاون کی تاریخ پاکستان کو ایسا ملک بناتی ہے جو دونوں جانب سے اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہو تو خطے میں امن و استحکام کے لیے کسی ثالث کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان اس کردار کے لیے قدرتی انتخاب ہے کیونکہ اسے نہ صرف دونوں ممالک تک رسائی حاصل ہے بلکہ خطے کے استحکام میں اس کا اپنا مفاد بھی شامل ہے۔پاکستان نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر جب باقاعدہ سفارتی چینلز بند ہوں تو پاکستان کے ذریعے پیغام رسانی کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ خاموش سفارت اگرچہ اکثر میڈیا کی سرخیوں میں نہیں آتی لیکن بحرانوں کو کم کرنے میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کی تہران اور ریاض میں ثالثانہ کوششیں اور اس سے بھی پہلے مختلف حکومتوں کی طرف سے خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششیں اس بات کی گواہ ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کو اپنی ترجیح سمجھتا ہے۔عالمی سیاست میں بدلتے ہوئے مناظر نے پاکستان کے کردار کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے اور دوسری طرف ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ ایسے میں پاکستان کی غیر جانبدارانہ حیثیت اور علاقائی استحکام کی خواہش اسے ایک قابل قدر ثالث بناتی ہے۔جوہری معاہدے سے متعلق مسائل ہوں یا خطے میں سیکورٹی کے خدشات، پاکستان کی بات دونوں فریقوں کے لیے قابل غور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب یہ سمجھا جائے کہ پاکستان خود ایک جوہری طاقت ہے اور عدم پھیلاؤ کے عالمی اصولوں کو سمجھتا ہے البتہ یہ کردار چیلنجز سے خالی نہیں۔ پاکستان کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ کا تاثر نہ دے۔ متوازن سفارت کاری، شفافیت اور خلوص نیت سے کی گئی کوششیں ہی کامیابی کی ضمانت دے سکتی ہیں۔پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ کسی بھی سفارتی کوشش میں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ پاکستان کے اپنے سیکورٹی اور معاشی مفادات محفوظ رہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور خود کو ایک ذمہ دار، امن پسند اور قابل اعتماد ملک کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ امریکہ اور ایران کے مابین مکالمے کو فروغ دینا نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پاکستان کی اپنی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔اس سلسلے میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی، تعلیمی اداروں کے تبادلے اور اقتصادی تعاون کے منصوبے بھی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اپنے تجربہ کار سفارت کاروں اور علاقائی ماہرین کو استعمال کرتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی تیار کر سکتا ہے۔عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار ایک لائٹ ہاؤس کی مانند ہو سکتا ہے جو امن اور مکالمے کی راہ دکھاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنا اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا نہ صرف ایک انسانی فریضہ ہے بلکہ خطے کی خوشحالی اور استحکام کی ضرورت بھی۔ پاکستان کو یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی امن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔