امریکہ کے پہلی بارافغان طالبان سے ڈائریکٹ مذاکرات کیوں؟

عبدالرزاق برق  

حالیہ چنددنوں میں دینا کی ایک سپرپاورملک امریکہ کا پہلی بارجنوبی ایشیا کے اہم ملک افغانستان کے معاملے میں اپنی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی اورپیش رفت خطے میں یہ نظرآنے لگی ہے کہ کہ ماضی میں خطے کے افغان بحران کے حل میں اہم کرداراداکرنے والااورپوٹنشل  اہمیت کے حامل ملک پاکستان کونظراندازکرتے ہوئے پہلی دفعہ براہ راست افغان طالبان سے رابطہ اورمذاکرات شروع کردئیے جس سے پاکستان کا خطے میں تیزی سے متزلزل کردارپرامریکہ نے پاکستان کے افغانستان پر50سالہ اثرورسوخ پرایک قسم کاپانی پھیرادیاگیا پاکستان کا کردار افغانستان میں اس وقت وڑادیاگیا جب تین سال کے بعد ایک امریکی وفد امریکی افغان نڑادزلمے خلیل زادکے سربراہی میں افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی سے مذاکرات کرنے کے لئے کابل پہنچے جنہیں پوری دنیا کامیاب اورنتیجہ خیزقراردے رہی ہے لیکن زلمے خلیل زادکاکابل جانا پاکستان کے لئے کیاپیغام ہوسکتا ہے ؟ اگرچہ امریکی وفدکابل پہنچنے کے فوراّ بعد ہی پاکستان کے سفیرصادق خان بھی کابل پہنچے توکیا صادق خان اس لئے کابل گئے کہ کہیں امریکہ براہ راست طالبان سے معاملات طے نہیں کرناچاہیے  ؟ امریکی وفدکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے سے پاکستان کاکردار ایک ایسے وقت میں ختم کیاہیے  کہ پاکستان نے سابقہ روس اورامریکہ کے درمیان سردجنگ کے دوران امریکہ کویہ پابندکیاگیا تھا کہ وہ افغان مجاہدین کے کسی سربراہ سے پاکستان کواعتمادمیں لئے بغیربراہ راست تعلقات نہیں بناسکتے سردجنگ کے دوران پاکستان کے تعلقات شمالی اتحادکے اہم۔ رہنمااورکمانڈراحمدشاہ مسعودسے تعلقات اس لئے خراب ہوئے کہ انہوں نے خودبراہ راست مغربی ممالک سے رابطہ قائم کیاتھا  لیکن اس وقت امریکا چونکہ پاکستان سے کئیے گئے وعدیکا پابندرہا مگرانہوں نے برطانیہ فرانس اورجرمنی کواپنا اختیاردے رکھا تھا کہ وہ احمدشاہ مسعودسے رابطہ قائم کرسکے ماضی میں افغان بحران کے حل اورامریکہ کاافغان طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کوانگیج کیاگیا لیکن اب وہ خلیجی ممالک کے زریعے سے مذاکرات کررہاہیے اورامریکی وفدنے اپناایک یرغمالی بھی  خلیجی ممالک کے توسط سے رہاکرواکر لے گیا اس کا مطلب ہے کہ امریکہ پاکستان پرانحصار کم کررہا ہیے جوکہ پاکستان کے لئے ایک سفارتی چیلنج ہوسکتا ہے پاکستان کے لئے ضروری ہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کومذیدمئوثربنائے اورافغانستان کے ساتھ براہ راست تعلقات کوبہتربنانے کی کوشش کریں اگرپاکستان افغانستان اپنے تعلقات بہتربنانے میں کامیاب ہوجاتاہیے تواس کے مثبت اثرات پورے خطے پرپڑیں گے دہشت گردی کے خاتمہ کیعلاوہ اقتصادی تعاون رہداری منصوبے تجارتی معاہدے اورعوامی روابط دونوں ممالک کے لئے فائدہ مندہوسکتے ہیں  اس بارے میں سوال یہ پیداہوتا ہیے کہ کیا یہ پہلی بارایسا ہوا ہیے کہ امریکہ نے پاکستان کو افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے انہیں نظراندازکیا ہیے یا ماضی میں بھی پاکستان کوبائی پاس کرچکا ہے اس بارے میں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب گزشتہ دہائی میں افغانستان کی جنگ زوروں پرتھی توامریکہ کی سرتوڑ کوشیشیں تھیں کہ وہ طالبان اورحامدکرزئی کوایک میز پربیھٹاکر گھرکی راہ لے اس کے لئے پاکستان کوغیرمتعلق بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جارہی تھی تواس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمدشجاع پاشا نے ٹائم میگزین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاتھا کہ امریکا ہم سے بھی توبات کرکے دیکھ لے اس جملے میں امریکہ کے لئے ایک پیشکش اوراعتمادبھی تھا اور امریکاکویہ بتایاجارہاتھا کہ پاکستان کوبائی پاس کرکے افغان بحران کاحل ممکن نہیں لیکن اس وقت کا دور اورتھا اور آج  کا دورافغانستان میں ایک اور ہیے اس وقت طالبان اقتدارسے باہر تھے آج وہ کابل پربرسراقتدارہیے اورزلمے خلیل زاد کاکابل میں افغان طالبان سے مذاکرات کرنا اوراپنے قیدی رہاکرنے سے پاکستان کے لئے یہ پیغام ہیے کہ اب فریقین نے ان کے بغیرجینااورکاروبارحیات چلانا سیکھ لیاہیے یوافغان طالبان اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کے بعدایک اورسرپرائزتھا جواس بات کاثبوت ہیے کہ امریکا نے پاکستان کے زریعے اس تزویراتی اتحادیوں اورآثاثوں کوکنٹرول کرنے کے بجائے ان کے ساتھ براہ راست راہ ورسم قائم کرنے کاراستہ دیکھ لیاہیے لیکن اب ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جن طالبان کوپاکستان نے پالاپوسااوربڑاکیا اب وہ امریکہ کووہی کرائیہ کے فوجیوں والی خدمت آدھے ریٹ میں دے رہے ہیں اورڈالرکابارش کابل قندھارپربرستی نظرآرہی ہیے جس سے جزیرے اورپاپ کے پینرے سمندربردہونے کااندیشہ ہیے اس کے ساتھ ہی امریکہ نے سراج الدین حقانی عبدالعزیزحقانی یحی حقانی کے ناموں کوامریکہ کی جانب سے تعاقب کرنے والوں کی فہرست سے ہٹانا اورساتھ ہی  حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اوروزیرداخلہ سراج الدین حقانی کے سرپرمقررکی گئی 10ملین ڈالرکا پروجیکٹ ختم کرنے کااعلان کردینا  کابل میں امریکی سفارت خانے کی دیوارسے شہادت موت امریکہ پر وغیرہ جیسے جملوں کوہٹانا اور افغان کرنسی کو مستحکم رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتاہیے کہ امریکہ اورطالبان کے تعلقات میں برف پگھل رہی ہیے اور کابل میں طالبان سے مذاکرات کے زریعے دوحامعاہدے کے چھپے ہوئے نقاط پر آج عمل درآمدکروانا ہیے آج امریکہ چاہتا کہ وہ خطے اوردنیا میں اپنے مفادات کے تکمیل کے لئے ایک بارپھر موجودہ افغان حکومت کے ساتھ تعاملات کووسیع کرنا چاہتے ہیں  اس سے قبل امریکہ کے وزارت خارجہ نے افغانستان میں داعش کے خلاف افغان طالبان کی گئی کاروائی کے کئی بارتعریف بھی کی ہے  کیونکہ دوحامعاہدے کے روح رواں زلمے خلیل زادتھے اوروہ افغان طالبان کے رگ رگ سے آشنا بھی ہیے کابل میں موجودزلمے خلیل زاد موجودگی نے یہ سوال بھی پیداکردیا ہیے کہ کیاافغانوں میں سب سے زیادہ مقبول امریکی سفارت کار زلمے خلیل زادواپس کابل آئیں گے خلیل زادکے قریبی زرائع نے کہاہیے کہ انہیں دوبارہ امریکی خصوصی ایلچی یاکسی اہم عہدے پرتعنیات کیاجاسکتاہیے تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان زلمے کو ایسے شخص کے طورپردیکھتے ہیں جس کے ساتھ وہ کام کرسکتے ہیں العربیہ ٹی وی کوایک انٹرویومیں طالبان ترجمان زبیع اللہ مجاہدنے کہا کہ افغانستان کی امریکہ سے دشمنی دائمی نہیں ہم امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوشش کررہیے ہیں ویسے ماضی میں امریکہ نے جاپان پر2ایٹم بم گرائے اس کے بعدجاپان نے امریکہ سے دوستی کرلی اورآج جاپان دنیاکی چوتھی طاقت ہیے اب افغان طالبان نیامریکہ کے ساتھ اچھی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں جواچھا فیصلہ کیا ہے انصاف اوربرابری کی سطح پہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہونے چائیں غلامی کی سطح پرنہیں اوروہ اپنے فیصلوں میں آزادہیے لیکن 20سالوں میں امریکہ کے نام پرلاکھوں افغانوں کی قربانیاں امریکہ سے دوستی نے خاک میں ملادیا آج سے 22سال قبل طالبان نے سابق افغان جمہوری حکومت کے خلاف جنگ لڑی گئی جس میں ہزاروں افغان اس لئے مارے گئے کہ اس حکومت کوکفری دنیا اورامریکہ کی حمایت 
اورپشت پنہائی حاصل تھی لیکن خود افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نے کہا کہ افغانستان اورامریکا کو 20سالہ جنگ کے آثرات سے باہرنکلنا ہوگا اورسیاسی واقتصادی تعلقات قائم کرنے ہوں گے  انہوں نے مسائل کے حل کے کیلئے مذاکرات کی ضرورت پربھی ضروردیاانہوں نے کہا کہ موجودہ طالبان حکومت امریکہ۔ سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کے خواہاں ہے افغان وزارت خارجہ کے مطابق امریکی وفدکی ایک اہم۔ رکن ایڈم بولرنے امریکی قیدیوں کے معاملے میں اس ملاقات کو اہم پیش رفت اوراس اقدام کواعتمادسازی کے لئے ایک مثبت قدم قراردیا امریکی وفدکابل جانے سے قبل نئے امریکی صدر ٹرمپ نے افغان حکومت کی۔ انسانی بنیادوں پر دی گئی امدادبندکردی اورطالبان کواحساس ہوگیا کہ امریکی مددکے بغیر ان کانظام زیادہ دیرنہیں چل سکتا پھرجب زلمے خلیل زادکی قیادت میں ایک امریکی وفدآیا اورافغانستان سے اپنی تمام شرائط منوالئیں طالبان نے کسی مزاحمت کے بجائے خاموشی سے سب کچھ تسلیم کرلیا پہلے امریکی قیدی کورہاکردیا مگرسب سے زیادہ تشویشناک  شرط باگرام ائیربیس کوامریکہ کے سپرد کرنا ہیے توکیاچین افغانستان کے باگرام ائیربیس پرامریکی موجودگی کوبرداشت کرے گا؟ کیااس سارے منصوبے کے پس پردہ کہیں امریکہ چین روس کوایک دوسرے کے سامنے توکھڑا نہیں کرناچاہتے ؟جواس وقت کہیں ایک اورمعاملات میں اکھٹے دکھائی دیتے ہیں اگرامریکہ باگرام ائیربیس پرقبضہ کرتے ہیں توواضح طورپرخطرہ چین کوہی لاحق ہوسکتاہیے لیکن پاکستان کے لئے بھی خیرکا کوئی امکان باقی دکھائی نہیں دیتا اورامریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں کہیں افغانستان اپنے حالیہ اچھا دوست چین کے ساتھ اپناتعلقات کوخراب تونہیں کریں گے؟