ایران ،امریکہ اور اسرائیلی جنگ

محمد افضل شاہد
یہ مان لینا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ اس لئے نہ کر سکے کہ یو اے ای، سعودی عرب یا قطر کو خطرہ تھا — یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے‘یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں جو صدیوں سے دوسروں کی لاشوں پر اپنے مفادات کی عمارت کھڑی کرتی آئی ہیں، یہ کسی عرب ریاست، کسی مسلمان ملک، کسی اتحادی کی خاطر اپنی جنگ نہیں روکتیں — یہ صرف اور صرف اپنے خوف پر رْکتی ہیں اور وہ خوف اس دن پیدا ہوا جب فیصلہ سازوں کو یہ احساس ہوا کہ اگر ایران پر پہلا میزائل چلا تو آگ صرف تہران میں نہیں جلے گی، آگ پورے خطے میں بھڑکے گی‘اسی لئے عین اس لمحے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا طیارہ قبرص یا نامعلوم محفوظ مقام کی طرف اڑا، یہ کوئی سفارتی دورہ نہیں تھا، یہ جان بچانے کی دوڑ تھی۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کھیل خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔مگر پردے کے پیچھے جو اصل کھیل کھیلا جا رہا تھا، وہ بھارت کھیل رہا تھا۔ہاں، وہی بھارت جسے ایران برسوں تک دوست سمجھتا رہا‘حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایران کے اندر جاسوسی، تخریب کاری اور سیاسی گھس پیٹھ کا منظم جال بچھا رکھا تھا، جو اسرائیل اور امریکہ کے لئے مسلسل راستے ہموار کرتا رہا!ایران کے اندر جو کچھ احتجاج کے نام پر دکھایا گیا، وہ محض عوامی غصہ نہیں تھا — اس میں اسلحہ، ڈیوائسز، تربیت یافتہ عناصر اور منظم گروہ شامل تھے جو افغانستان کے راستے داخل ہوئے اور یہ بھی تلخ سچ ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نے یا تو اس راستے کو روکا نہیں، یا دانستہ آنکھ بند رکھی.بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ طالبان ہمیشہ سے اور ابھی بھی امریکہ ہی پال رہا ہیے۔۔طالبان کے نذدیک نا کوئی مسلمان ہیے اور نا کوئی اسلامی ریاست۔ان کے نذدیک ڈالر سب کچھ ہیے اور وہ ڈالر کے لئیے پہلے بھی اور اج بھی ہر چیز بیچ سکتے ہیں۔ابھی بھی امریکہ بہادر لاکھوں نہیں اربوں ڈالر افغانستان کو سالانہ دے رہا ہیے۔۔ایسا ملک جس دیائیوں سے جنگی حالات میں رہا ہو۔نا کوئی بندرگاہ نا کوئی بڑا انفراسٹیکچر نا تیل لیکن پھر بھی اس کی معیشت۔خطے کے باق ممالک ایراں،پاکستان ،ہو یہ کسی بڑی طاقت کی پشت پناہی کے بغیر ناممکن۔یوں افغانستان پہلے کی طرح ایک بار پھر بڑی طاقتوں کی جنگ کا لانچ پیڈ بنا دیا گیا!لیکن ایران پر ایک بات واضع ہو گئی اور اس پاکستان کو بہت فائیدہ ہوا کہ ایران انڈیا کے بلاک سے نکل ایا اب پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ تصور کی جاسکے گی۔۔ابھی ایران اور افغانستان مل کر طالبان کو سبق سکھائیں گے۔لیکن صاحب بہادر ( امریکہ) ایسا کرنے نہیں دے گا۔۔کیونکہ یہ اس کے لے پالک بچے ہیں۔۔انشاء￿ اللہ ان کا بندوبست پاکستان ہی کرے گا اور بہت جلد کرے گا۔۔دہشت گرد احتجاج کے لبادے میں، اسلحہ لئے انسانی حقوق کے نعروں کے ساتھ، اور خون کو ‘‘عوامی تحریک’’ کے نام پر بہایا گیا!اور ایران ؟ایران برسوں تک بھارت کے ساتھ معاہدے کرتا رہا، تجارت کرتا رہا، اینٹی پاکستان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتا رہا، یہ سوچ کر کہ بھارت قابلِ اعتماد ہے مگر جیسے ہی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ حقیقی جنگ کے دہانے پر پہنچا — بھارت کا اصل چہرہ، اس کا جاسوسی نیٹ ورک، اس کی ایران مخالف پالیسی سب ننگے ہو گئے!
یہ بحران ایران کے لئے ایک تھپڑ تھا، ایک وارننگ تھی، ایک جاگنے کی گھنٹی تھی!اور جنگ کیوں رکی اس لئے نہیں کہ عرب ممالک فریاد کر رہے تھے!
جنگ اس لئے رکی کہ اگر ایران نے مکمل جواب دیا تو امریکی اڈے، اسرائیلی شہر، خلیجی بندرگاہیں اور عالمی تیل کی سپلائی ایک ہی آگ میں جل سکتی تھی!اس لئے رکی کہ روس اور چین جیسے کھلاڑی خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے والے نہیں تھے!اس لئے رکی کہ امریکہ اور اسرائیل کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ یہ جنگ شروع کرنا تو ان کے اختیار میں ہے، مگر ختم کرنا ان کے اختیار میں نہیں رہے گااور اس پورے منظرنامے میں اگر کوئی ملک کھل کر، صاف، دوٹوک اور اصولی طور پر ایران کے ساتھ کھڑا نظر آیا تو وہ پاکستان تھا!پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ ایران کو کمزور کرنا پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہوگا!پاکستان کی یہ اسٹریٹجک للکار ہی وہ دیوار بنی جس پر دشمن کے منصوبے ٹکرا کر رہ گئے!
اسی لئے یہ کہنا حق ہے، سچ ہے، اور وقت کی آواز ہے کہ ایران کی بقا کے دفاعی حصار میں پاکستان ایک مضبوط ستون بن کر کھڑا ہے!
یہ جنگ اس لئے نہیں رکی کہ دشمن امن کا خواہاں تھا، یہ جنگ اس لئے رکی کہ دشمن کو پہلی بار یہ ڈر لگا کہ اس بار آگ اس کے اپنے گھر تک پہنچ سکتی ہے!اور جب سامراج کو اپنے ہی گھر جلنے کا خوف آ جائے تو وہ سب سے پہلے قدم پیچھے ہٹاتا ہے — اور یہی اس لمحے ہوا!
الحمدللہ اس وقت ایران میں شورش پر قابو پایا جا چکا ہے، صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اگر امریکہ پھر بھی جنگ کرے گا۔ تو امریکہ کا عالمی اقتدار ختم ہوگا۔یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے نہیں روکی یہ جنگ ان کے خوف اور انے والے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئیے مجبوراً روکنی پڑی ہیے۔اور اس میں مارخور کا بہت بڑا بلکہ فیصلہ کن کردار رھا۔۔رہے نام اللہ کا۔ اور ہمیشہ زندہ باد ،پاکستان

"