تصور حسین شہزاد
ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونیوالا مذاکرات کا دوسرا دور، تل پٹ ہوگیا ہے اور ایران کے انکار کے بعد اب امریکہ نے بھی اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جے ڈی وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور آج ان کی آمد متوقع تھی۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔ امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر نے درخواست کی ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے۔ امریکہ کو ایران کیساتھ جنگ کرکے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ ایران میں رجیم چینج میں ناکام ہو گیا بلکہ ایک معمر خامنہ ای کی جگہ ایک جوان خامنہ ای آگیا۔ ایران نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا کہ خامنہ ای کی جگہ خامنہ ای کو ہی لے آیا۔ اس سے بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی نیوی کو تباہ کرنے کے دعوے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ نے ایرانی نیوی کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔ امریکہ کو یورینیم ایران سے لینے میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ ایرانیوں نے اس حوالے سے صاف انکار کر دیا ہے کہ افزدہ یورنیم کے بارے مں تو امریکہ سوچے بھی نہ۔ ایران کی آبی ناکہ بندی کرکے امریکہ نے اپنا نقصان کر لیا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکہ میڈیا بھی اب کچھ کچھ سچ بولنے لگ گیا ہے، جس کا ٹرمپ کو بہت دکھ ہے اور وہ اخبارات کیخلاف بول رہے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل اور نیوز ویک نے تو ٹرمپ کا کچہ چٹھہ کھول دیا ہے۔ مذاکرات کا معاملہ دیکھیں تو ایران نے امریکی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، ایران نے تو جنگ بندی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ دیکھا جائے تو ایرانی ہر قسم کے حالات کیلئے تیار ہیں، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ خطے میں جنگ نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم دونوں اپنی اپنی جگہ پر متحرک ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ معاملہ سلجھ جائے۔ جنگ سے امریکہ و ایران کا نقصان تو ہوگا، لیکن پاکستان سمیت دیگر ممالک توانائی کے ذرائع کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لئے سب کی کوشش ہے کہ جنگ رک جائے۔ اس حوالے سے یورپی یونین اور عرب حکمرانوں کو یہ بات ٹرمپ کو سمجھائی چاہیے کہ جنگ کے اثرات سے دنیا زیادہ متاثر ہوگی۔ کیونکہ اگر جنگ ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عرب ممالک کا ہوگا۔ لاہور میں سینیئر صحافیوں سے گپ شپ کرتے ہوئے جے یو ا?ئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عربوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیئے کہ وہاں امریکی اڈے ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے بلکہ خود امریکہ اپنا بھی دفاع نہیں کر سکا تو عرب ممالک کا دفاع کیسے کرے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے عرب حکمرانوں کو مشورہ دیا ہے کہ امریکہ
پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنے ہمسائے میں معاملات بہتر کریں۔ ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ایران کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخایا گیا، دھمکیاں دی گئیں، مذاکرات کی میز پر بھی حقائق پر بات نہیں ہوئی۔ ایک بیان میں روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس پاکستان میں ایران اور امریکہ کی ممکنہ بات چیت کی پیشرفت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اور امریکہ 2015 جیسا کوئی معاہدہ کرلیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ روس یہ سمجھتا ہے کہ صورتحال 24 گھنٹوں کے اندر بدل سکتی ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکی تاریخ بات منوانے اور حکم چلانے کی ہے، مگر پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کیلئے بے چین اور ایران اپنے اصولی موقف پر کاربند اور ثابت قدم نظر آرہا ہے۔ مذاکراتی عمل کیلئے دباؤ ایران پر ڈالا جا رہا ہے، جس نے پاکستانی سپہ سالار کے کہنے پر آبنائے ہرمز کھول دی، مگر امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کو تیار نہیں۔ اب امریکہ کو لچک دکھانا پڑے گی، مذاکرات اب اسکی کمزوری ہیں، اسے پیچھے آنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ ہمیں امریکی ناکہ بندی ختم ہونے سے متعلق اشارے ملے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی ختم ہونے پر ہی اسلام آباد مذاکرات میں شریک ہونگے۔ امیر سعید ایروانی نے مزید کہا کہ امریکی ناکہ بندی ختم کرنا مذاکرات بحالی کی شرط ہے۔ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا جنگ، اور اسے جنگ کا ہی شوق ہے تو ایران اس کیلئے آمادہ و تیار ہے، کیونکہ امریکہ کو جنگیں ہارنے اور ایران کو جنگیں جیتنے کا تجربہ ہے۔