امجد علی
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا باہمی تنازع نہیں، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست، عالمی طاقتوں کے مفادات، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سلامتی کے توازن سے جڑا ایک نہایت پیچیدہ اور ہمہ جہت مسئلہ ہے۔ یہ کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے، جس کی جڑیں تاریخ، نظریات، انقلابی تبدیلیوں، اقتصادی پابندیوں اور بالواسطہ جنگوں میں پیوست ہیں۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات میں اصل دراڑ 1979ء کے ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد پڑی، جب شاہ ایران کی امریکہ نواز حکومت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایک انقلابی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ اسی برس تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور سفارتی عملے کو یرغمال بنانا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے ایران کو ایک ‘‘باغی ریاست’’ کے طور پر دیکھنا شروع کیا، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام بعد ازاں امریکہ اور یورپی طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کا مستقل اور حساس نکتہ بن گیا۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جہاں امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے جو احتجاجی مظاہروں میں شریک ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی حکومت کے خاتمے سے متعلق بیانات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی کردار کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔
دوسری جانب روس اور چائنہ نے ان اقدامات کو کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ امریکہ ایران میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب، قطر، عمان، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی علاقائی ممالک بھی اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کسی براہ راست فوجی اقدام سے گریز کرے۔ ایرانی سفیر کا موقف بھی واضح ہے کہ امریکی اقدامات ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے منافی ہیں، اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں یہ مؤقف خاصا مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امریکہ اکثر اپنے بیانیے خود ترتیب دیتا ہے، جن کے پسِ پردہ قومی مفادات، اسٹریٹجک اہداف اور وسائل پر کنٹرول کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر مہذب اقوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں، مگر عملی طور پر اس کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور چین کی امریکی اقدامات پر کھلی تنقید ایک مثبت سفارتی اشارہ ضرور ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب سے بڑی تشویش ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد، توانائی کی ضروریات اور طبی تحقیق کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کشمکش کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی راہداری منصوبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی بنیاد اکثر وسائل اور مفادات ہوتے ہیں۔ طاقتور ریاستیں اپنے مذموم عزائم کو خوش نما بیانیے میں لپیٹ کر کمزور اقوام پر مسلط کرتی ہیں۔ من پسند پالیسیاں، من چاہی حکومتیں اور مخصوص شخصیات کو اقتدار میں لا کر وسائل کا استحصال ایک آزمودہ حربہ ہے، جبکہ عام عوام سچ اور جھوٹ کے بیچ بھٹکتی رہتی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد معاشی پابندیوں اور ‘‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’’ کی پالیسی نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ تیل کی برآمدات محدود ہو گئیں، کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، اور سب سے بڑی قیمت عام ایرانی عوام نے ادا کی۔
ایران اور امریکہ براہ راست جنگ سے گریز کرتے رہے ہیں، مگر دونوں کے درمیان بالواسطہ محاذ آرائی مسلسل جاری ہے۔ عراق میں ملیشیاوں اور امریکی اڈوں پر حملے، شام میں اثر و رسوخ کی کشمکش، لبنان میں حزب اللہ کی حمایت، یمن میں حوثیوں کا کردار، اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ و اعلانیہ تصادم، یہ سب ایران، امریکہ کشیدگی کے پھیلتے ہوئے دائرے کی علامت ہیں۔
اس تنازع میں اسرائیل ایک کلیدی فریق ہے، جو ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی نیٹ ورک کو روکنے کے لیے اسرائیل مسلسل امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے، جبکہ سائبر وار، ٹارگٹ کلنگز اور خفیہ حملے اسی کشیدگی کا حصہ ہیں۔ ایران حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں ملوث ایک عورت نے اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست ٹیلی فونک رابطوں کا اعتراف کیا ہے اس سے ایرانی موقف کو تقویت ملی ہے امریکہ اور اسرائیل ایرانی خودمختاری پر حملہ اور ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور امریکہ براہ راست جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جنگ دونوں کے لیے مہنگی اور خطرناک ہوگی۔ بلکہ عالمی معیشت، بالخصوص تیل کی منڈی، شدید متاثر ہو سکتی ہے اور پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اسی لیے کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔ دباؤ، دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ سفارت کاری بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔
ایران۔امریکہ کشیدگی دراصل طاقت اور مزاحمت، عالمی بالادستی اور خودمختاری، اور مفادات کی ایک طویل جنگ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ممالک نے بارہا عالمی سلامتی اور اخلاقی جواز کے نام پر کمزور ریاستوں کو تباہ کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بیانیے جھوٹ ثابت ہوئے، جس کی واضح مثال عراق جنگ ہے۔ ایسے تنازعات میں سب سے بڑی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے، اور آج ایرانی عوام بھی اسی کرب سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذا عالمی برادری اور مہذب اقوام پر لازم ہے کہ وہ مبہم سپورٹ، خاموشی ترک کریں، واضح، مضبوط اور اصولی موقف اختیار کریں۔ ظالم کو ظالم اور غلط کو غلط کہنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو طاقت کے نشے میں ڈوبی ریاستوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ کشیدگی کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پوری دنیا اس کی قیمت چکانے پر مجبور ہوگی۔