کراچی:آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران بحیرہ عرب کے مشرقی وسطی حصے میں ہوا کے کم دباؤ کا نظام بننے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے سائیکلون وارننگ سینٹر کے مطابق اس وقت ہواؤں کی گردش بھارت کے کرناٹک اور گوا کے ساحلی علاقوں کے قریب موجود ہے، جو آئندہ 36 گھنٹوں میں شدت اختیار کرکے ڈپریشن میں تبدیل ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات پاکستان کا سائیکلون وارننگ سینٹر اس ممکنہ سسٹم کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے۔ موسمیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سازگار موسمی حالات میسر آئے تو یہ کم دباؤ کا نظام ڈیپ ڈپریشن اور پھر سائیکلون کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جس کا امکان 60 سے 70 فیصد تک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام سائیکلون کی صورت اختیار کرتا ہے تو اسے "شکتی" کا نام دیا جائے گا، جو سری لنکا کی جانب سے تجویز کردہ ہے اور اس کے معنی ہیں "طاقتور"۔
اس سسٹم کے اثرات کے نتیجے میں 25 مئی سے یکم جون کے دوران سندھ بھر میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے۔ خاص طور پر کراچی میں سمندری ہوائیں معطل ہونے کے باعث گرمی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو محتاط رہنے اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سسٹم کے ممکنہ ٹریک اور شدت سے متعلق مزید پیشگوئیاں کی جائیں گی۔