لاہور : وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے معروف سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر ثناء یوسف کے گھر جا کر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
عطا تارڑ کا بیان:
عطا تارڑ نے کہا:"یہ ایک معصوم بچی تھی جو سوشل میڈیا پر منفرد اور مثبت کنٹینٹ بنا رہی تھی، اسے بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی اور بچی کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔"انہوں نے کہا کہ:حکومت ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مکمل معاونت کرے گی۔وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیا ہے۔کیس میں وکلاء اور لائرز فورمز کے نمائندے متاثرہ خاندان کی قانونی معاونت کے لیے موجود رہیں گے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتی جائے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
متاثرہ خاندان کا ردعمل:
ثناء یوسف کے والدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"پولیس اور انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے قاتل گرفتار ہوا۔""حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کیا گیا جس پر شکر گزار ہیں۔"
پس منظر:
ثناء یوسف ایک باصلاحیت سوشل میڈیا انفلوئنسر تھیں، جو مثبت اور خاندانی تفریح پر مبنی ویڈیوز بناتی تھیں۔ ان کا اچانک قتل نہ صرف ان کے خاندان بلکہ آن لائن کمیونٹی کے لیے بھی صدمے کا باعث بنا۔یہ کیس اب نہ صرف قانونی بلکہ سماجی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے، اور حکومتی سطح پر بھی اسے ایک علامتی مقدمہ (symbolic case) سمجھا جا رہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر خواتین کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔