تہران : ترجمان ایرانی حکومت فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف حالیہ ایرانی حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور ایران صرف اپنا جغرافیائی و قومی دفاع کر رہا ہے۔
ایرانی مؤقف واضح: جنگ نہیں، دفاع چاہتے ہیں
عرب میڈیا کے مطابق، ترجمان حکومت نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:"ایران نے اپنی 200 سالہ تاریخ میں کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ ہم جارح نہیں، مدافع ہیں۔"فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا:"ہم نے سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن اگر ہم پر حملہ کیا جائے گا تو ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ دفاع ہمارا حق ہے۔"
موجودہ تناظر:
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے فوجی کارروائیوں اور دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے، اور خطے کی مجموعی صورتحال انتہائی حساس موڑ پر پہنچ چکی ہے۔
ایران کی سفارتی لچک:
ترجمان کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مسائل کا پرامن اور سفارتی حل نکلے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دفاعی اقدامات سے دستبردار ہو گا۔
تجزیہ:
ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا بیان ایران کے دوہری حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں ایک طرف دفاعی طاقت کا اظہار ہے تو دوسری طرف سفارتکاری کے لیے آمادگی بھی دکھائی گئی ہے۔یہ مؤقف عالمی برادری کے لیے پیغام ہو سکتا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔