ریاستی اداروں سے متعلق کیس: سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار، عدالت کا سخت انتباہ

ریاستی اداروں سے متعلق کیس: سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار، عدالت کا سخت انتباہ

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پر مبینہ گمراہ کن الزامات عائد کرنے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے ان کی مسلسل عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سینئر سول جج عباس شاہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ملزم کی بار بار غیر حاضری عدالتی کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے بعد عدالت نے سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر بھی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پیش نہ ہوئے تو قانون کے مطابق انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔مقدمہ پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درج کیا ہے۔ کیس میں الزام ہے کہ سہیل آفریدی نے ریاستی اداروں سے متعلق ایسے بیانات دیے جن سے مبینہ طور پر عوام کو گمراہ کیا گیا اور اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی۔سماعت کے دوران عدالت نے کیس کی کارروائی مختصر رکھتے ہوئے مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کر دی۔یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر عدالت کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی حاضری اور کیس کی قانونی پیش رفت پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔