پاکستان آمد: ایرانی وزیر داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، گارڈ آف آنر پیش

پاکستان آمد: ایرانی وزیر داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، گارڈ آف آنر پیش

اسلام آباد: ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

دورے کے موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور باہمی احترام کی روایت کا بھی اظہار کیا گیا۔سکندر مومنی نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن، استحکام اور وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ کو پاکستان مونومنٹ کی تاریخی، ثقافتی اور قومی اہمیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان مونومنٹ ملک کی چاروں صوبائی اکائیوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی علاقوں کی علامتی نمائندگی کرتا ہے اور قومی یکجہتی کی ایک اہم یادگار ہے۔

سکندر مومنی نے یادگارِ شہداء اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی اہمیت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزیر داخلہ نے شکر پڑیاں سے اسلام آباد شہر اور مارگلہ کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کا بھی نظارہ کیا اور قدرتی حسن کی تعریف کی۔اس موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا، ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان داخلی سلامتی، سرحدی تعاون، انسداد دہشت گردی اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔