کراچی کے علاقے قائد آباد میں ڈھائی سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں ڈی این اے رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں بچی کے کپڑوں سے کم از کم تین مختلف افراد کا ڈی این اے ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر 14 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں مزید افراد کے سیمپلز بھی لیے گئے۔ تفتیش کے دوران بچی کی چچی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر بچی کو قتل کر کے لاش کمرے میں چھپا دی، تاہم اسے ٹھکانے نہ لگا سکنے پر گھر کے باہر چھوڑ دیا۔ حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے، مزید افراد کے ملوث ہونے کے امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ عدالت میں جرم ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔