لاہور میں پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے مقتول کی نقل و حرکت جاننے کے لیے ان کے ڈرائیور کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کیا۔
پولیس تفتیش کے مطابق 22 سالہ لڑکی کے ذریعے عبداللہ طاہر کے ڈرائیور اصغر سے رابطہ کیا گیا، جس کے بعد ملزمان مقتول کی آمد و رفت اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ذرائع کے مطابق ٹک ٹاک کے ذریعے لڑکی نے ڈرائیور سے پہلی بار رابطہ قتل کے تقریباً دو ماہ قبل کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے ڈرائیور سے عبداللہ طاہر کے معمولات اور موجودگی سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق واردات کے روز کلینک پہنچنے کے بعد ڈرائیور اور مبینہ ملزمہ کے درمیان ویڈیو کال بھی ہوئی، جس کے دوران ملزمان نے عبداللہ طاہر کی کلینک میں موجودگی اور سیکیورٹی گارڈز کی عدم موجودگی کی تصدیق کی۔پولیس کے مطابق اس وقت تک مبینہ شوٹرز گرومانگٹ روڈ پر پہنچ چکے تھے، جبکہ مقتول کی نگرانی کے لیے مبینہ طور پر ڈرون کیمرے کا استعمال بھی کیا گیا۔سی سی ڈی پولیس کی جانب سے ڈرائیور سے پوچھ گچھ کی گئی، جس میں پولیس کے مطابق ڈرائیور نے خود کو ہنی ٹریپ کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔