ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کی عدالت میں سماعت جاری ہے۔
سماعت کے آغاز پر جج نے استفسار کیا کہ 342 کے سوالنامہ کا کیا ہوا؟ جس پر ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ ہمیں 342 کے بیان کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ جج افضل مجوکا نے وعدہ کیا کہ وہ 342 کا بیان ٹائپ کرکے 10 بجے پیش کریں گے۔عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا اور پھر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اسلام آباد بار کے صدر نعیم علی گجر نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی عدالت میں پیش ہوئے، اور نعیم علی گجر نے ان کے وکالت کا حق بحال کرنے کی درخواست دی۔صدر بار نعیم گجر نے جج سے ملاقات کے دوران کہا، "ویلکم بیک سر، آپ کا دورہ کیسا رہا؟" اور کہا کہ سر پہلے سے زیادہ خوبصورت نظر آ رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرانے کے بعد، دونوں نے جرح کا حق بحال کرنے کی درخواست دائر کی۔ وکیل نعیم علی گجر نے عدالت سے وقت دینے کی درخواست کی تاکہ وہ کیس میں معاونت فراہم کر سکیں۔جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ مشرف کیس میں سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ملزم بار بار پیش نہیں ہوتا تو عدالت ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل جاری رکھ سکتی ہے۔ہادی علی چٹھہ نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے کیس کی منتقلی کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔ عدالت نے سماعت 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔