خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہی، حالانکہ اس کا مقررہ وقت صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک تھا۔پولنگ کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال کو الیکشن روم قرار دیا گیا تھا، جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ سینیٹ انتخابات میں پہلا ووٹ جے یو آئی ف کے سجاد اللّٰہ نے ڈالا، جبکہ دیگر ووٹرز میں پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی، پی ٹی آئی کے اقبال وزیر اور آزاد رکن علی حادی شامل تھے۔ پی ٹی آئی کے پیر مصور، ملک لیاقت، اکبر ایوب، اور مخدوم آفتاب حیدر نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے والے نمایاں امیدواروں میں شامل ہیں:
حکومتی اتحاد (پی ٹی آئی) کے امیدوار:
جنرل نشستیں: مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، پیر نورالحق قادری
ٹیکنوکریٹ نشست: اعظم سواتی
خواتین نشست: روبینہ ناز
اپوزیشن کے امیدوار:
جنرل نشستیں: نیاز احمد (ن لیگ)، طلحہٰ محمود (پیپلز پارٹی)، عطا الحق (جے یو آئی ف)
ٹیکنوکریٹ نشست: دلاور خان (جے یو آئی ف)
خواتین نشست: روبینہ خالد (پیپلز پارٹی)
جبکہ 12 آزاد امیدوار بھی جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشستوں پر میدان میں ہیں۔ ایک سینیٹر کے انتخاب کے لیے 19 ووٹ درکار ہیں۔
اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 53 ہے۔
الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن نے 6/5 کا فارمولا طے کیا، جس کے تحت حکومت کو 6 نشستیں اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔پی ٹی آئی رہنما مشتاق غنی کے مطابق، اس فارمولے پر عمل درآمد جاری ہے، پہلے حکومت و اپوزیشن اپنے امیدواروں کو ووٹ دے رہے ہیں، بعد ازاں ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دیے جائیں گے، اور کم ووٹ لینے والے امیدواروں کے ووٹ ٹرانسفر کیے جا سکتے ہیں۔اب ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کا انتظار ہے، جس سے واضح ہوگا کہ آیا طے شدہ فارمولے پر مکمل عمل ہوا یا کسی بھی جانب سے تبدیلی واقع ہوئی۔