پشاور و لاہور: خیبر پختونخوا اور پنجاب سے سینیٹ انتخابات آج، سیکیورٹی سخت، 25 امیدوار میدان میں

پشاور و لاہور: خیبر پختونخوا اور پنجاب سے سینیٹ انتخابات آج، سیکیورٹی سخت، 25 امیدوار میدان میں

خیبر پختونخوا اور پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشستوں پر آج (پیر) اہم انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 25 امیدوار میدان میں ہیں۔

 دونوں صوبوں میں پولنگ کا عمل سخت سیکیورٹی میں جاری ہے۔

 خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر پولنگ
پشاور میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخاب کے لیے پولنگ صبح 11 بجے سے شروع ہوئی، جو شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔ پولنگ کے لیے کے پی اسمبلی کے جرگہ ہال کو پولنگ روم قرار دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

امیدواروں کی تفصیلات:
حکومتی اتحاد (PTI):

جنرل نشستوں پر: مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نورالحق قادری
خواتین نشست پر: روبینہ ناز
ٹیکنوکریٹ نشست پر: اعظم سواتی
اپوزیشن اتحاد (ن لیگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی):

جنرل نشستوں پر: نیاز احمد (ن لیگ)، طلحہ محمود (پیپلز پارٹی)، عطاء الحق (جے یو آئی)
خواتین نشست پر: روبینہ خالد (پیپلز پارٹی)
ٹیکنوکریٹ نشست پر: دلاور خان (جے یو آئی)
نشستوں کی تقسیم کا طے شدہ فارمولا:
حکومت کے حصے میں: 6 نشستیں
اپوزیشن کے حصے میں: 5 نشستیں
کے پی اسمبلی کی عددی پوزیشن:
حکومتی ارکان کی تعداد: 92
اپوزیشن کے حمایت یافتہ ارکان: 53
جنرل نشست جیتنے کے لیے درکار ووٹ: 19
خواتین و ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے درکار ووٹ: 49
اپوزیشن کو تیسری جنرل نشست جیتنے کے لیے صرف 4 اضافی ووٹ درکار ہوں گے۔مزید برآں، 5 ناراض اراکین میں سے 4 کے دستبردار ہونے کے بعد خرم ذیشان جنرل نشست کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔

 پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب
دوسری جانب، پنجاب اسمبلی میں بھی سینیٹ کی ایک جنرل نشست پر ضمنی انتخاب آج ہی ہو رہا ہے۔ اس نشست پر پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گی، جس کے لیے پنجاب اسمبلی کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔

خالی نشست کی وجہ:
یہ نشست مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

امیدوار:
مسلم لیگ (ن): حافظ عبدالکریم
اپوزیشن اتحاد: مہر عبدالستار
آزاد امیدواران: خدیجہ صدیقی، اعجاز حسین
اسمبلی کی عددی صورتحال:
کل نشستیں: 371
خالی نشستیں: 2
ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان: 369
کامیابی کے لیے درکار ووٹ: 184
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو اتحادی جماعتوں سمیت واضح برتری حاصل ہے، لہٰذا حافظ عبدالکریم کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔