بلوچستان میں پسند کی شادی پر قتل؛ چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی شدید مذمت

بلوچستان میں پسند کی شادی پر قتل؛ چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی شدید مذمت

اسلام آباد: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور سینیٹر روبینہ خالد نے بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور آئین عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں سینیٹر روبینہ خالد نے کہا:"بلوچستان میں نوجوان جوڑے کی پسند کی شادی پر قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں، یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ اس طرح کے گھناؤنے جرائم دہشت گردی کی ایک مثال ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین اور اسلامی تعلیمات عورت کو مکمل بااختیار بناتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرے۔ انہوں نے قاتلوں کو جلد از جلد قرار واقعی سزا دینے کی امید ظاہر کی۔روبینہ خالد نے کہا کہ معاشرے میں انسانی حقوق، آزادی اظہار اور آزادی انتخاب کا احترام ضروری ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر فرد کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو، اور کوئی بھی ظلم یا جبر کے ذریعے اس حق کو سلب نہ کر سکے۔

پس منظر:
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں بلوچستان میں ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی کو پسند کی شادی کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل کی ایک اور افسوسناک مثال بن چکا ہے، جس پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتی حلقوں نے شدید ردعمل دیا ہے۔