راولپنڈی میں پسند کی شادی پر جرگے کے مبینہ فیصلے کے تحت لڑکی کے قتل کے کیس میں سپریم کورٹ نے ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کی ضمانتوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ جرگے کے فیصلے پر لڑکی کو کشمیر سے بلوا کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں دفن کر دیا گیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں ملزمان کو نوٹس جاری کیا جائے؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر لازمی نوٹس جاری کیا جائے۔عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے اور کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
پنجاب پراسیکیوشن نے ملزم ظفر اللہ سمیت دیگر کی ضمانتوں کی منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ مقدمہ جولائی 2025 میں راولپنڈی کے فوجی کالونی پیرودہائی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ پسند کی شادی پر جرگے کے فیصلے کے تحت لڑکی کو اہل خانہ کے سامنے قتل کیا گیا، بعد ازاں لاش کو غسل دینے اور دفن کرنے کے عمل میں بھی مبینہ طور پر بعض افراد شامل تھے۔