چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک رول ماڈل بن چکا ہے اور بے شمار ممالک اس کے طرز پر سماجی تحفظ کے پروگرامز نافذ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار بی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ ہمارے لیے فخر کا مقام ہے کہ بین الاقوامی ترقیاتی ادارے بی آئی ایس پی کو ایک مثالی پروگرام کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اسے دنیا بھر میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 11 سے 14 نومبر تک مغربی افریقی ممالک کا ایک وفد بی آئی ایس پی کے سسٹم کا مطالعہ کرنے پاکستان آ رہا ہے تاکہ وہ ہمارے پروگرام کو سمجھیں اور اسے اپنے ملکوں میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
سینیٹر نے بی آئی ایس پی کے جدید ڈیٹا بیس کا بھی ذکر کیا، جس نے قدرتی آفات جیسے کہ کووڈ-19 اور 2022 کے سیلاب میں متاثرین کی بروقت نشاندہی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے ان قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کے لیے اپنے سسٹم کو مؤثر طور پر استعمال کیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کا مقام ہے کہ بی آئی ایس پی جیسے پروگرام نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے اور غیر ملکی وفود اکثر اس کا دورہ کرتے ہیں اور اس پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے پروگرامز کی اہمیت اور اثر پذیری دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہے۔