محصور فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی بمباری، براہ راست فائرنگ اور قحط کے باعث مزید 115 فلسطینی شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت اور بین الاقوامی اداروں نے صورتحال کو ’انسانی المیہ‘ قرار دے دیا ہے۔
غزہ پٹی میں امداد کے حصول پر حملہ، 92 شہادتیں
عرب میڈیا کے مطابق غزہ پٹی میں شہریوں کا ایک بڑا ہجوم امداد کے حصول کے لیے جمع ہوا، اس دوران اسرائیلی افواج نے اچانک گولہ باری اور فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں 92 فلسطینی موقع پر ہی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
خان یونس پر حملہ، پانچ سالہ بچہ بھی شہید
مزید اطلاعات کے مطابق خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں 7 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ایک پانچ سالہ معصوم بچہ بھی شامل ہے۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے رہائشی علاقوں پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
امدادی قافلوں پر بھی فائرنگ، اقوامِ متحدہ کی تصدیق
اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک (WFP) نے تصدیق کی ہے کہ ان کا 25 ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلہ جیسے ہی اسرائیلی سرحد سے غزہ میں داخل ہوا، اسے شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس سے امدادی کارروائیاں بھی متاثر ہوئیں۔
محاصرہ برقرار، قحط سے 18 افراد جاں بحق
غزہ کا مکمل محاصرہ تاحال برقرار ہے، اسرائیلی افواج کی جانب سے امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث غذائی قلت سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد قحط اور بھوک کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔
صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں امدادی سامان کی فوری ترسیل ممکن نہ بنائی گئی تو مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔