غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اور صبح کے وقت شدید فضائی اور زمینی بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 50 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ شہر پر مکمل قبضے کی تیاری کر رہی ہیں، جس پر اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں یہ فوجی کارروائی تباہ کن ثابت ہو گی اور لاکھوں شہری مزید بے گھر ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ زیتون اور شجاعیہ کے علاقوں میں اسرائیلی زمینی آپریشن کے دوران 1500 سے زائد گھر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ اپنے مکانات چھوڑ کر ساحل کی طرف پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ غذائی قلت اور بھوک کے باعث مزید 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔ اس طرح بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 317 تک پہنچ گئی ہے۔وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 62 ہزار 900 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔