اسرائیلی فضائی حملہ: غزہ کے اسکول پر بمباری، 25 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی

اسرائیلی فضائی حملہ: غزہ کے اسکول پر بمباری، 25 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی

ویب ڈیسک: اسرائیلی جارحیت کا نیا خوفناک باب، غزہ میں اسکول پر فضائی حملے میں 25 فلسطینی شہید اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
یہ اسکول اُن بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہ بنا ہوا تھا جو اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے محفوظ مقام کی تلاش میں تھے۔

رات کی تاریکی میں حملہ، اسکول ملبے کا ڈھیر بن گیا
حملہ رات کی تاریکی میں کیا گیا، جب مرد، خواتین اور بچے اسکول میں سو رہے تھے۔بمباری کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مقامی امدادی ادارے پوری رات سرگرم رہے۔

غزہ حکام کا عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ
غزہ کی مقامی انتظامیہ نے اس واقعے کو "جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ:"غزہ میں بے گناہ شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اسکول جیسے محفوظ مقامات بھی اب نشانے پر ہیں۔ عالمی برادری کب جاگے گی؟"
غزہ کے 77 فیصد علاقے پر اسرائیلی قبضہ
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 77 فیصد علاقے پر قابض ہو چکی ہیں، اور منظم انداز میں وہاں کی شہری آبادی کو یا تو قتل کیا جا رہا ہے یا بے دخل کر کے در بدر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ:"یہ جارحیت اور نسل کشی عالمی انسانی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کی کارروائیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ پورے غزہ پر بزور طاقت قبضہ کیا جا سکے۔"
نسل کشی کا تسلسل، عالمی خاموشی پر سوالیہ نشان
اب تک جاری اسرائیلی حملوں میں 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور اقوام متحدہ کی خاموشی پر عالمی رائے عامہ میں بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔