غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مزید 36 فلسطینی شہید، بھوک اور امداد کی کمی سے صورتحال سنگین

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مزید 36 فلسطینی شہید، بھوک اور امداد کی کمی سے صورتحال سنگین

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی دن میں مزید 36 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں امداد کے منتظر 21 افراد بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی کابینہ کے غزہ پر مکمل قبضے کے فیصلے کے بعد جمعے کو بھی شدید فضائی اور زمینی حملے جاری رہے، جن میں بڑی تعداد میں معصوم شہری نشانہ بنے۔غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 4 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جس سے اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک فاقہ کشی سے مرنے والوں کی تعداد 201 ہو گئی ہے، جن میں 98 بچے شامل ہیں۔اسرائیل نے غیر ملکی امدادی تنظیموں کو غزہ میں سرگرمیاں جاری رکھنے سے روک دیا ہے اور خوراک کی تقسیم صرف اسرائیلی اور امریکی انتظامیہ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

 اس دوران کئی مقامات پر اسرائیلی فوج اور امریکی کانٹریکٹرز نے خوراک کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے فلسطینیوں پر فائرنگ کی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے، جس کی درخواست 15 میں سے 14 رکن ممالک نے پیش کی تھی۔