متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ان افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جنہیں امریکی فوج کے انخلا کے دوران عارضی طور پر پناہ دی گئی تھی۔
امریکی انخلا کے بعد دی گئی پناہ:
یو اے ای حکام کے مطابق، ان افغان شہریوں کو امریکی حکومت کی درخواست پر عارضی طور پر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ وہ افغان باشندے تھے جو 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے وقت خطرات کے پیش نظر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
ملک بدری کا آغاز:
یو اے ای حکام نے کہا ہے کہ ان افغان باشندوں کی واپسی کا عمل 10 جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔ اس فیصلے سے امریکی حکومت کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
علاقائی پس منظر:
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور ایران بھی ہزاروں افغان مہاجرین کو غیر قانونی قیام کے باعث ملک بدر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی یہی پالیسی اپنائے جانے سے خطے میں افغان شہریوں کی واپسی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل:
اماراتی حکام کے مطابق، افغان شہریوں کی واپسی کا عمل مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اس دوران بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں رہا جائے گا تاکہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کا خیال رکھا جا سکے۔