متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری تبادلے اور مالی لین دین کو مزید اطلاع تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق، موجودہ حالات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور اس لیے یہ سخت اقدام اٹھایا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور جب تک صورتحال بہتر نہیں ہوتی، جاری رہے گا۔دوسری جانب، ایران نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اپنے علاقے سے میزائل داغے جانے کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اماراتی بیان بے بنیاد ہے اور یہ الزامات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران امن کا حامی ملک ہے اور اس قسم کے الزامات بے بنیاد پروپیگنڈہ ہیں۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں فوجی تنازع اور سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ تجارتی اور مالی سرگرمیوں کی معطلی سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے نتائج علاقائی سطح پر سنگین ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے دونوں