آبنائے ہرمز کا متبادل تیار! متحدہ عرب امارات نے نئی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ کر لیا

آبنائے ہرمز کا متبادل تیار! متحدہ عرب امارات نے نئی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ کر لیا

ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے دبئی کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کی تیاری کے لیے مشرقی ساحلی ریاست فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دبئی کی معروف بندرگاہی کمپنی ڈی پی ورلڈ اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات جاری ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت فجیرہ میں نئی بندرگاہ تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں جدید کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا، تاکہ درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد دبئی کی جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا اور ایسا متبادل تجارتی مرکز قائم کرنا ہے، جہاں سے بحری تجارت آبنائے ہرمز پر انحصار کیے بغیر جاری رکھی جا سکے۔برطانوی اخبار کے مطابق حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق خدشات کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنی تجارتی اور اقتصادی سلامتی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے متبادل راستوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی بندرگاہ مکمل ہونے کے بعد کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں لانے اور یہاں سے روانہ کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔

ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اگر منصوبہ طے شدہ رفتار سے آگے بڑھا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ فجیرہ میں نئی بندرگاہ کی تعمیر کا مقصد جبل علی پورٹ کا متبادل بنانا نہیں بلکہ ملک کے لیے ایک محفوظ اور اضافی تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک حصہ فجیرہ کے ذریعے برآمد کرتا ہے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کرنے کے لیے اس راستے سے تیل کی برآمدات بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہی حکمت عملی، علاقائی تجارت اور خلیجی بحری نقل و حمل میں اہم تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔