اسرائیلی افواج نے بے گھر افراد کے خیموں، رہائشی مکانات اور امدادی مراکز کو نشانہ بنایا،نصیرت پولیس کے ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت شہید کردیے گئے
ہمارے پاس غزہ کی پوری آبادی کے لیے کافی خوراک موجود ہے ، اسرائیل محاصرہ ختم کرے اور ہمیں کام کرنے دے،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی
غزہ (آئی این پی ) غزہ میںمدادی سامان لینے کے لیے مرکز کی طرف جانے والوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 32 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ24گھنٹوں کے دوران مسلسل بمباری کے نتیجے میں کم از کم 116 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں بچے، خواتین اور خاندان کے پورے افراد شامل ہیں ،غذائی قلت کے سبب شیر خوار جاں بحق ہوگیا ۔قطری نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی افواج نے بے گھر افراد کے خیموں، رہائشی مکانات اور امدادی مراکز کو نشانہ بنایا۔جنوبی خان یونس کے قریب بنی سہیلہ میں چار افراد کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ خان یونس ہی میں ایک خیمے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا، وسطی غزہ کے علاقے الزوایدا میں ایک رہائشی گھر پر حملے میں نصیرات پولیس کے ڈائریکٹر کرنل عمر سعید عقل اور ان کے خاندان کے 11افراد شہید ہو گئے۔غزہ شہر کے مختلف علاقوں جیسے زیتون اور تل الہوا میں بھی اسرائیلی فضائی حملے ہوئے، جن میں متعدد افراد شہید ہوئے، جبالیہ کے علاقے میں گولہ باری سے بھی جانی نقصان ہوا۔اس دوران الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ کے مطابق غزہ میں جاری بھوک اور محاصرے کی وجہ سے ایک 35 دن کا شیر خوار بچہ بھوک سے جان کی بازی ہار گیا ہے، ہسپتال میں مزید دو افراد بھی بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 17 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس و ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل جگن چپگین نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی عوام قحط کے دہانے پر ہیں، ناروے کی مہاجرین کونسل کے سربراہ جان ایگلینڈ نے یورپی یونین کی نمائندہ کی مثبت پیش رفت کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 142 دنوں سے ایک بھی امدادی ٹرک اندر نہیں جا سکا۔اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے کہا ہے کہ ان کے پاس غزہ کی پوری آبادی کے لیے کافی خوراک موجود ہے جو مصر کے بارڈر پر رکی ہوئی ہے، اسرائیل دروازے کھولے، محاصرہ ختم کرے اور ہمیں کام کرنے دے۔