گل پلازہ آتشزدگی، رمپا پلازہ سیل، 28 ہلاکتیں، 85 افراد لاپتہ

گل پلازہ آتشزدگی، رمپا پلازہ سیل، 28 ہلاکتیں، 85 افراد لاپتہ

کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے اثرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے ملحقہ رمپا پلازہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد رمپا پلازہ میں موجود دکانداروں کو فوری طور پر نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ایس بی سی اے حکام کے مطابق تباہ حال گل پلازہ کا تفصیلی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم عمارت کی بیسمنٹ میں بڑی مقدار میں گرم پانی جمع ہونے کے باعث اندرونی پلرز اور اسٹرکچر کا مکمل معائنہ ممکن نہیں ہو سکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی نکالے جانے کے بعد ہی عمارت کے اندرونی حصوں کی اصل حالت کا جائزہ لیا جا سکے گا۔

حکام نے متاثرہ عمارت کے اس حصے پر، جو رمپا پلازہ سے جڑا ہوا ہے، فوری طور پر جیک لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی ممکنہ انہدام سے بچا جا سکے۔ ایس بی سی اے نے خبردار کیا ہے کہ رمپا پلازہ میں کسی بھی قسم کی سرگرمی بغیر اجازت جاری رہی تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کو پانچ روز گزر چکے ہیں اور اب بھی تباہ حال عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 85 افراد تاحال لاپتا ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لاشوں کی شناخت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈی این اے کلیکشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 18 افراد کے لواحقین نے ڈی این اے سیمپلز جمع کرا دیے ہیں تاکہ لاشوں کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔سانحہ کے مقام پر درجنوں شہری اشکبار نظر آتے ہیں، جو اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے اب بھی کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ امیدیں دم توڑ رہی ہیں لیکن دل اب بھی اپنے عزیزوں کی واپسی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔