شہر قائد کے تجارتی مرکز پرنس روڈ پر واقع قدیم اور معروف گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے عمارت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 83 افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مسلسل کارروائی کر رہی ہیں۔آگ پر تقریباً 33 گھنٹے بعد قابو پایا گیا، تاہم اس دوران عمارت کے کئی حصے گر گئے اور پلرز ٹیکنے لگے، جس سے مکمل عمارت کے گرنے کا خطرہ برقرار رہا۔ ملبے میں مسخ شدہ لاشیں بھی ٹکڑوں میں برآمد ہو رہی ہیں، جبکہ کچھ افراد جھلسنے کی وجہ سے شناخت کے قابل نہیں ہیں۔ امدادی کارروائی میں ایک ہزار سے زائد اہلکار، ریسکیو 1122، نیوی اور کے ایم سی کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
سانحے کا پس منظر اور عمارت کی خلاف ورزیاں:
گل پلازہ 1980 میں تعمیر ہوا اور 1998 میں مزید منزلیں شامل کی گئیں۔ 2003 میں بی سی اے نے عمارت کو ریگولرائز کیا، جس کے تحت 1021 دکانوں کی اجازت تھی، لیکن بعد ازاں 179 غیر قانونی دکانیں تعمیر ہو گئیں اور دکانوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر گئی۔ بیسمنٹ میں دکانیں اور چھت پر پارکنگ قائم کرنا بھی قواعد کی خلاف ورزی تھی۔ پلازہ تقریباً 8000 اسکوائر گز پر محیط تھا اور آرٹیفیشل پھول، سجاوٹی سامان اور گفٹ آئٹمز کی تھوک تجارت کا مرکز تھا، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔
آگ کیسے بھڑکی اور ابتدائی نقصان:
واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب رات 10:36 بجے ایک آرٹیفیشل پھولوں کی دکان میں آگ لگنے سے شروع ہوا، جو تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ شدید دھوئیں اور شعلوں کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
ریسکیو آپریشن:
آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں کے ایم سی، ریسکیو 1122 اور نیوی نے حصہ لیا۔ تقریباً 200 فائر فائٹرز اور 24 فائر ریسکیو گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں جبکہ واٹر کارپوریشن نے 4 لاکھ 31 ہزار گیلن پانی فراہم کیا۔ پلازہ کے اندر ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ پولیس، رینجرز اور کراؤڈ مینجمنٹ فورس شہریوں کو محفوظ فاصلے پر رکھنے میں مصروف ہیں۔
داخلے کے راستے اور امدادی مشکلات:
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ عمارت میں آٹھ داخلی راستے تھے، جن میں سے پانچ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے بند ہو چکے تھے، جس سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ پلازہ کی چھت پر موجود گاڑیاں کرین کے ذریعے اتاری گئیں، جن میں سے دو مالکان کو واپس کر دی گئیں۔
لاپتہ افراد اور اہلخانہ کا کرب:
لاپتہ افراد کے اہلخانہ پلازہ کے باہر مایوسی کے عالم میں بیٹھے ہیں اور اپنے عزیزوں کے لیے دعا اور انتظار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور دو بہنیں شامل ہیں جو سپین اور آسٹریلیا سے شادی کی شاپنگ کے لیے آئی تھیں۔
سیفٹی انتظامات کی ناکامی اور سوالات:
ابتدائی رپورٹس کے مطابق پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات ناکافی تھے، ایمرجنسی راستے محدود تھے اور فائر الارم موجود نہیں یا غیر مؤثر تھا۔ یہ سانحہ کراچی کی کمرشل عمارتوں میں حفاظتی معیار کی کمی کو بے نقاب کرتا ہے اور سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا عمارت بائی لاز اور سیفٹی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا تھا یا نہیں۔
شہر میں شاپنگ مالز میں بار بار آگ کے واقعات:
گل پلازہ کا سانحہ کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات کے تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران شہر کے مختلف شاپنگ مالز میں آگ لگنے کے متعدد واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں کلفٹن گلف سنٹر (2016)، ربی سنٹر (2016)، آشیانہ شاپنگ سنٹر (2016)، ہائپراسٹار مال (2016)، جامعہ کلاتھ مارکیٹ (2016)، مدینہ مال (2016)، آر جے شاپنگ مال (2023) اور ملینیم مال (2025) شامل ہیں۔