اٹھارہویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوئی‘نہ بلدیاتی نظام بنا نہ پولیس سسٹم ‘سیاسی حکومتیں حیلے بہانوں سے بلدیاتی نظام سے بھاگتی ہیں‘ جب بھی امر آتے ہیں مضبوط بلدیاتی نظام لاتے ہیں
حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے ، یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں، میں نہیں سمجھتا پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے: قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں، حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوا ہے، نہ بلدیاتی نظام بنا نہ پولیس سسٹم بنا ہے،ہمیں بلدیاتی انتخابات کا طے شدہ درست نظام بنانا ہوگا،محلے میں نمائندگی نہیں ہوگی تو وزارت دفاع کے فائر بریگیڈ آکر آگ پر قابو پائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوںنے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے، پی ٹی آئی والے فرینچ میں بات کرتے ہیں، انگلش،پنجابی اور اردو میں بات کرتے ہیں، ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنیوالیالگ زبان بول رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کیخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں‘انہوں نے کہا جب تک گلی محلے میں عوامی نمائندگی نہیں ہوگی وزارت دفاع کے فائر بریگیڈ آکر آگ پر قابو پائیں گے، جب بھی امر آتے ہیں وہ مضبوط بلدیاتی نظام لاتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سیاسی حکومتیں حیلے بہانوں سے بلدیاتی نظام سے بھاگتی ہیں میرے پاس اسلام آباد کون آسکے گا، بلدیاتی نظام کے نمائندوں کو ہر کوئی گلی محلے میں پکڑ سکے گا، اگلی آئینی ترمیم میں ایک قوم ایک نصاب اور بلدیاتی نظام لائیں۔