پمز کو موجودہ نظام کے تحت چلانا ممکن نہیں، نیا نظام لانا ہوگا، مصطفی کمال

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )پمز اسپتال میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے میں 14 بچوں کی اموات کے سانحے پر سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تفصیل کے مطابق پمز میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ میں 14 نومولودوں کی اموات کے واقعے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے، جس میں متعلقہ حکام سے اراکین نے سخت سوالات پوچھے۔سینیٹ کی ہیلتھ کمیٹی کے رکن مسرور احسن نے کہا کہ پمز اسپتال میں آگ کیسے لگی؟ تحقیقاتی رپورٹ میں سوالوں کے جواب نہیں ملے۔ انہوں نے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج جعلی لگتی ہے، خدشہ ہے ویڈیو ایڈٹ کی گئی ہے۔ ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نرسری چند سیکنڈ میں جل کر راکھ ہوگئی؟۔وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ پمز کو موجودہ نظام کے تحت چلانا ممکن نہیں، نیا نظام لانا ہوگا۔دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے انکوائری رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔چیئرمین ڈاکٹرمہیش کمار نے کہا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو نا مکمل، جب کہ عملے کے بیانات میں تضادات تھے۔ نرسری میں پورٹیبل اے سی کیوں لگائے گئے تھے؟ اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔عالیہ کامران نے کہا ذمہ داروں کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد مقدمات کہاں ہیں؟ وزیراعظم نے عوام کو صرف اعلانات کا لالی پاپ دیا؟ غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے۔