موجودہ نظام مفلوج ہو گیا، بلدیاتی سسٹم یا انتظامی یونٹس بنانا ضروری ہو گئے خواجہ آصف

پیپلزپارٹی کی سیاسی حیثیت ختم ہو گئی، بقا ء کیلئے صوبوں کا معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا ،پی ٹی آئی نے 3،2سال سے جو رویہ رکھا ہوا ہے اس میں تھوڑی ترمیم کرنا پڑے گی
متعدد اسلامی ممالک مکہ معاہدے کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں ، ان کیلئے  شرائط وضوابط  طے کر رہے ہیں ،  معاہدے کے تنظیمی ڈھانچے پر اگلے مذاکرات  پاکستان میں ہو سکتے ہیں 
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن)وزیر دفاع  اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے  پیپلزپارٹی کی سیاسی حیثیت ختم ہو گئی جو اپنی بقا کیلئے  صوبوں کا معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا۔ایک انٹرویو میں   خواجہ آصف نے کہا کہ آصف زرداری قابل احترام ہیں لیکن وہ اور موجودہ قیادت پیپلزپارٹی کو اپنا مقام واپس دلانے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام مفلوج ہو گیا، مربوط بلدیاتی نظام یا انتظامی یونٹس کے بغیر ملکی نظام نہیں چل سکتا اگر جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تویہ نچلی سطح پر بھی نظر آنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے پچھلے 3،2سال سے جو رویہ رکھا ہوا ہے اس میں تھوڑی ترمیم کرنا پڑے گی، سوشل میڈیا پر بیٹھ کر جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ سب کو پتہ ہے ٹیکنالوجی اتنی ایڈوائس ہوچکی ہے کہ کوئی بھی چیز چھپائی نہیں جاسکتی، برطانیہ میں بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے آپ آکر اپنے والد سے کیوں نہیں ملتے، بانی پی ٹی آئی کے بچوں کو ملاقات سے کسی نے نہیں روکا۔دریں اثناء صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا متعدد اسلامی ممالک مکہ معاہدے کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں ۔   انکے لئے شرائط وضوابط  طے کر رہے ہیں ۔    استنبول  اجلاس میں تینوں ممالک کے  نمائندوں کی ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ مکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کے لئے  کام کا آغاز ہو نا چاہیے ۔ اجلاس  میں معاہدے کے تنظیمی ڈھانچے پر تفصیلی گفتگو ہوئی  جس میں معاہدے  کے سیکر ٹیریٹ کے مقام ، عہدیداران ،  ممبران کی مدت ، نئے  ممبران کی معائدے میں شمولیت   سمیت دیگر امور پر بات چیت ہوئی ہے ۔   انہوں نے کہا کہ دیگر  برادر اسلامی ممالک بھی اس معائدے کا حصہ  بننا چاہتے ہیں ۔ اجلاس میں  ان ممالک کے لئے بھی شرائط وضوابط پر  گفتگو ہوئی ہے کہ کتنی مدٹ کے بعد نئے ممبران کے لئے اس  معائدے میں شامل ہونے کے دروازے کھولے جانے چاہیے ۔ ممبران کی مدت کتنی ہونی چاہیے ۔ کن شرائط پر انھیں اس معائدے کا حصہ  بنانا چاہیے ۔ ان  تمام امور پر ابھی صرف بات ہوئی ہے  حتمی  فیصلے تو قیادت نے کرنے  ہیں ہم تو صرف فریقین کی طرف سے ایک کمیٹی ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ ان انتظامی امور پر ابھی مزید بات چیت جاری  رہے گی ۔