اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں خودکش حملہ ایک ویک اپ کال ہے، جو یاد دلاتا ہے یہ جنگ پورے پاکستان کی ہے‘ آخری حد تک لڑی جائے گی
80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکہ کیلئے تھا، ہمارے قومی تشخص پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں:قومی اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بھی حالتِ جنگ میں ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے پر اپنے سخت ردعمل میںوزیر دفاع نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج صرف سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز حصوں میں لڑ رہی ہے، وہ جاگ جائیں، آج اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں ہونے والا خودکش حملہ ایک ویک اپ کال ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ یہ جنگ پورے پاکستان کی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر رہی ہے تاکہ عوام کو تحفظ اور اعتماد کا احساس ملے، موجودہ حالات میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا بے فائدہ ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ کابل حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں، اسلام آباد تک دہشت گردی لانا ایک واضح پیغام ہے، جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور امن کی خاطر ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری حد تک لڑی جائے گی۔ دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا۔ منگل کو قومی اسمبلی اجلاس میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس ملک میں افغان جہاد لڑنے کے لیے تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا، آپ کا نصاب یونیورسٹی آف نبراسکا سے بن کر آیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک بندہ گوادر، چترال ،حیدرآباد اور لاہور میں پڑھ رہا ہے، ان میں کچھ مشترک نہیں، اس نصاب کی وجہ سے مذہبی شدت پسندی آئی، اسلام آباد میں دو تین ہزار مدرسے تھے اب ہزاروں ہیں، مدرسے قبضے کی زمینوں پر بن رہے ہیں