اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی پیروی کے لیے نئی قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
اس ٹیم میں 14 وکلا شامل ہیں، تاہم پارٹی سے وابستہ کچھ اہم وکلا کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔نئی قانونی ٹیم میں بیرسٹر سلمان اکرم راجا، بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گل، چوہدری ظہیر عباس، ارشد تبریز، قوسین فیصل مفتی، خالد محمود یوسف چوہدری، چوہدری اشتیاق، ابوذر نیازی، رائے سلمان امجد، شعیب شاہین، سردار قدیر، علی اعجاز بٹر اور مشعال یوسفزئی شامل ہیں۔اس کے علاوہ، سابقہ قانونی ٹیم کے اہم اراکین جیسے فیصل چوہدری، بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت کو نئی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس تبدیلی سے پی ٹی آئی کے قانونی محاذ پر مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ کیس میں الزامات عائد ہیں کہ انہوں نے تحفوں کو ضابطے کے خلاف فروخت کیا اور رقم کو غیر قانونی طریقے سے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیا۔ نئے وکلا کی ٹیم کی تشکیل کے بعد، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔اس کیس میں قانونی پیچیدگیاں اور سیاسی اثرات اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور نئی ٹیم کی تشکیل پی ٹی آئی کے قائدین کی قانونی لڑائی کے لیے ایک نیا مرحلہ ہے۔